رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ مظاہرے: چین کے تازہ دم فوجی دستے تعینات


ہانگ کانگ مظاہرے (فائل فوٹو)

ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حامیوں کے تین ماہ سے جاری مظاہروں کے باعث چین کی طرف سے تازہ دم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ہانگ کانگ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران وقفے وقفے سے کئی احتجاجی تحریکیں اٹھیں اور طویل احتجاج کے بعد ختم ہوگئیں۔

حال ہی میں جمہوریت کے حامی افراد کی بڑی تعداد ہانک کانگ کی سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے۔ اس احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کی بھی بڑی تعداد وہاں موجود ہے، جب کہ چین نے مزید فوجی دستے تعینات کیے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق، "فوجی دستوں کی تبدیلی معمول کی کارروائی ہے۔"

چینی خبر رساں ادارے 'شنہوا' کا کہنا ہے کہ چین کی فوج ہانگ کانگ کی خوش حالی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اور بھی زیادہ اہم اقدامات کرے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کی طرف سے فضائی، زمینی اور سمندری فوج کے تازہ دم دستوں کی تعیناتی معمول کی کارروائی کے تحت کی گئی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں تعینات فوج کی تعداد آٹھ سے دس ہزار ہے، جنھیں شمالی چین اور سابق برطانوی آرمی بیرکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق شیک کانگ ملٹری بیس کے گرد و نواح میں ہونے والی ملٹری سرگرمیوں میں قدرے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

چین نے مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ کو چین کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے پر متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان مظاہروں سے سختی سے بھی نمٹ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ امریکہ کو ان مظاہروں پر گہری تشویش ہے۔ اس بیان کے اگلے ہی روز ہانگ کانگ کے سرحدی علاقے شینزن کے اسپورٹس اسٹیڈیم میں چینی پولیس نے مشقیں شروع کر دی تھیں۔

ہانگ کانگ میں تین ماہ سے مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ انہیں ہانگ کانگ کے نئے لیڈر کے انتخاب کے سلسلے میں منصفانہ اور آزادانہ طور پر ووٹ دینے کا اختیار دیا جائے۔

ہانگ کانگ میں مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب پارلیمان میں ایک قانونی مسودہ پیش کیا گیا، جس میں ایسے افراد کو چین بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا جن پر مجرمانہ اقدامات میں ملوث ہونے کا شبہ ہو۔

مظاہروں کے دوران ہانگ کانگ کا بین الاقوامی ایئرپورٹ بھی مظاہرین نے بند کر دیا تھا اور اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

امبریلا موومنٹ

گزشتہ سال ستمبر میں بھی مظاہرین کی 'آکو پائی سنٹرل' احتجاجی تحریک نے ہانگ کانگ کی ایک مرکزی شاہراہ کو ڈھائی ماہ تک بند رکھا تھا۔ اس دوران ایک وقت میں مظاہرین کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی جو بیجنگ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج رہا۔

Hong Kong Umbrella Movement Trial
Hong Kong Umbrella Movement Trial

بیجنگ میں حکام نے ان احتجاجی دھرنوں کو غیر قانونی قرار دیا اور بالآخر پولیس کی مدد سے ان کے مطالبات مانے بغیر مظاہروں کو ختم کرا دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG