رسائی کے لنکس

logo-print

سی پیک پاکستانی معیشت پر بوجھ نہیں: چین


چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نیوز بریفنگ دے رہے ہیں۔ فائل فوٹو

چین نے اس تاثر کو رد کر دیا ہے کہ اربوں ڈالر مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت شروع کیے گئے منصوبے پاکستان پر معاشی بوجھ ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں جاری منصوبوں میں سے 20 فیصد منصوبے ایسے ہیں جن کے لیے چین نےقرضہ فراہم کیا ہے۔ جبکہ دیگر تمام منصوبے چین کی طرف سے پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری اور معاونت پر مبنی ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے یہ بات پیر کو بیجنگ میں نیوز بریفنگ کے دوران کہی۔

بریفنگ کے دوران چینی قرضوں کے پاکستانی معیشت پربوجھ سے متعلق سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے جاری منصوبوں کی کل لاگت کا صرف 20 فیصد قرضے کی شکل میں ہے۔ جبکہ دیگر منصوبے سرمایہ کاری اور امداد کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان کی خودانحصاری میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس سے پاکستانی معیشت مضبوط ہوئی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے معاشی بحران کے باعث سی پیک کے منصوبے بھی سست روی کا شکار ہو گئے ہیں جس کے باعث اسلام آباد بیجنگ سے اقتصادی امداد کا خواہاں ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاشی بحران کی وجہ سے نئے منصوبے تعطل کا شکار ہیں جب کہ 62 ارب ڈالر کے سی پیک منصوبوں سے نصف سے بھی کم مکمل ہو سکے ہیں۔

لیکن اپنی بریفنگ میں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت اب تک 22 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جن سے ہزاروں افراد کو روزگار ملا ہے۔ ان کے بقول ان منصوبوں کی وجہ سے لگ بھگ 80 لاکھ گھرانوں کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملی ہے جبکہ انفراسٹرکچر کے شعبے میں بھی بہت کام ہوا ہے۔

چین کی وزرات خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی اہم امریکی قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض دینے کی مخالفت کی جائے کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ رقم چینی قرضوں کے ادائیگی کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

پاکستان کو غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے معاشی دباؤ کی وجہ چین کے قرضے نہیں ہیں کیوں کہ یہ فوری طور پر واجب الادا نہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان کو اپنی ادائیگیوں کا توازن برقراررکھنے کے لیے 10 سے 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں پاکستان کے دوست ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے اسلام آباد کی مالی معاونت کی ہے۔

لیکن بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود پاکستان کی اقتصادی مشکلات کم نہیں ہوئیں اور اسے آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG