رسائی کے لنکس

logo-print

مسعود اظہر کے خلاف نئی قرارداد کی مخالفت کریں گے: چین


چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لو کانگ صحافیوں کے سوالوں کا جواب دے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

چین نے کہا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی کسی بھی نئی قرارداد کی مخالفت کرے گا۔

بدھ کو بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے ایک بار پھر چین کا یہ موقف دہرایا کہ مسعود اظہر کا معاملہ سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی میں حل ہونا چاہیے۔

بریفنگ کے دوران ترجمان سے پوچھا گیا تھا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے ایک بار پھر چین پر زور دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی میں اس معاملے کو تیکنیکی بنیادوں پر التوا میں رکھنا ختم کر دے۔ تو چین کا اس بارے میں کیا موقف ہے اور اگر امریکہ سلامتی کونسل میں کوئی نئی قرارداد پیش کرتا ہے تو کیا چین اس کی حمایت کرے گا۔

اس پر ترجمان نے کہا کہ مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے بارے میں چین کا موقف واضح ہے اور چین متعلقہ ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس معاملے کے حل کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔

لیکن ترجمان نے خبردار کیا کہ چین متعلقہ ملکوں کی طرف سے کسی بھی نئی قرارداد لانے کی مخالفت کرے گا اور وہ بارہا اپنے اس موقف کا اظہار کر چکا ہے۔

رواں سال فروری میں بھارت کے زیرِ اتنظام کمشیر میں سیکورٹی فورسز پر ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم جیش محمد نے قبول کی تھی۔

اس حملے کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے تنظیم کے پاکستان میں مقیم سربراہ مسعود اظہیر کا نام دہشت گرد قرار دینے کی تجویز سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی میں پیش کی تھی جو چین نے تیکنیکی بنیاد پر التوا میں ڈال دی تھی۔

بھارت نے چین کے اس اقدام پر افسوس کا اظہار کیا تھا جب کہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے ردِ عمل میں مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد براہِ راست سلامتی کونسل میں پیش کردی تھی جس پر چین نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

تاحال سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کو رائے شماری کے لیے پیش نہیں کیا گیا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے تازہ بیان پر تاحال امریکہ کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن امریکی حکام قبل ازیں کہہ چکے ہیں کہ مسعود اظہر کے بارے میں واشنگٹن کا موقف واضح ہے اور جیش محمد متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔

امریکی اور بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مسعود اظہر کالعدم شدت پسند تنظیم جیشی محمد کے سربراہ ہیں اور وہ اقوامِ متحدہ کی طرف سے بلیک لسٹ قرار دینے کے تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔

لیکن چین اور پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سلامتی کونسل کے بجائے تعزیراتی کمیٹی کے فریم ورک کے تحت حل ہونا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ جیش محمد کو دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔ لیکن تنظیم کے سربراہ مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرانے کی متعدد کوششیں چین کی مخالفت کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG