رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، چین


چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ

چین نے اقوام متحدہ کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات پر عمل درآمد کے معاملے پر پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے پیر کو بیجنگ میں معمول کی بریفنگ کے دوران بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے موثر اقدامات کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنی چاہیے۔

پاکستان نے گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی اور دہشت گردی کے لئے مالی وسائل کی فراہمی کی روک تھام سے متعلق بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی مرتب کی تھی۔

پاکستان کی طرف سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب عالمی برادری کی جانب سے پاکستان پر کالعدم تنظیموں اور گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔

پاکستان کے حالیہ اقدامات کی تفصیلات سے متعلق سوال پر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی روک تھام کے لئے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ‘‘یہ اقدام انسداد دہشت گردی اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد سے متعلق پاکستان کے عزم کا اظہار ہے اور چین اسلام آباد کی ان کوششوں کو سراہتا ہے۔’’

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اہم شراکت دار ہے اور پاکستان نے دہشت گردی کی روک تھام کے لئے بین الاقوامی سطح پر جاری کوششوں کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس توقع کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری مشترکہ طور پر عالمی اور علاقائی امن کو برقرار رکھنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مضبوط کرے گی۔

رواں سال فروری میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر خود کش حملے کے بعد پاکستان پر شدت پسند گروپوں اور عناصر کے خلاف موثر کارروائی کے لئے عالمی دباؤ میں اضافہ ہوا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند گروپ جیش محمد نے قبول کی تھی جس کے سربراہ پاکستان میں مقیم مسعود اظہر ہیں۔

پاکستان نے پلوامہ واقعے کے بعد کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے اور ان کے درجنوں دفاتر، تعلیمی اور فلاحی اداروں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

دوسری طرف فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے بھی پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل کی فراہمی روکنے کے لئے موثر اقدامات کرنے کا دباؤ ہے۔

کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ کالعدم تنطیموں کے خلاف جاری پاکستان کے اقدامات بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ ہیں، جب کہ پاکستانی حکام اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ یہ کارروائیاں قومی مفاد میں کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG