رسائی کے لنکس

logo-print

چین: کرونا وائرس سے 170 ہلاکتیں، بھارت اور فلپائن میں بھی کیسز رپورٹ


چین میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی ہے۔ بھارت، فلپائن اور تبت نے بھی وائرس کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، جمعرات کو فلپائن کی وزارت صحت نے ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق کی ہے۔

بھارت نے بھی تصدیق کی ہے کہ ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

بھارت کے محکمہ صحت کے مطابق، کرونا وائرس سے متاثرہ طالب علم چین کے شہر ووہان میں زیر تعلیم تھا اور بھارت پہنچنے پر اس میں اس مرض کی تشخیص ہوئی ہے جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق، کرونا وائرس کے باعث بدھ کی صبح سے جمعرات کے آغاز تک 38 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد اس وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 170 ہو چکی ہے۔

ہیلتھ کمیشن کے مطابق، بدھ کے روز 37 ہلاکتیں صوبہ ہوبی میں ہوئیں جب کہ ایک مریض جنوب مغربی صوبہ سچوان میں ہلاک ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک دن میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی یہ اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 170 تک پہنچ چکی ہے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 170 تک پہنچ چکی ہے۔

ہلاکتوں سے متعلق حالیہ اطلاعات کے بعد چین کی حکومت نے کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔

چین نے 'چین سپر لیگ' سمیت ملک میں ہونے والے فٹبال کے تمام ڈومیسٹک میچز ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت نے گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

عالمی ادارے نے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ مہلک سارس نما وائرس کے خلاف فوری طور پر سخت اور مؤثر پالیسی اپنائیں۔

ادارے کی جانب سے جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ ہو گا۔

گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی کے دوران دنیا کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کے تعاون سے وبائی امراض کو کنٹرول کرنے کے لیے ترجیحی اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات تک 1700 سے زائد نئے مریضوں میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد چین میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 7711 ہو گئی ہے۔

ہوبی کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے اور ووہان شہر بھی اسی صوبے میں واقع ہے جو اس مرض کا مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ہمالیہ کی گود میں آباد ملک تبت میں بھی ایک مریض میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو ملک کا پہلا کیس ہے۔

دنیا کی بیشتر ائیرلائنز نے چین جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں، تاکہ مرض کو دوسرے ممالک تک پھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔ ماہرین کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں بھی منتقل ہوتا ہے۔

جمعرات کو جاپان کا دوسرا طیارہ اپنے شہریوں کو چین سے واپس لینے ووہان پہنچا۔ گزشتہ روز جاپان نے اپنے 206 شہریوں کو چین سے واپس جاپان منتقل کیا تھا۔ جاپان کی تیسری پرواز بھی رواں ہفتے چین روانہ ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG