رسائی کے لنکس

logo-print

چین میں 4 پاکستانی طلبہ میں کرونا وائرس کی تصدیق، غیر ملکیوں کا انخلا جاری


چینی حکام کے مطابق، کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی ہے، جب کہ متاثرین کی تعداد 5974 ہے۔

پاکستان نے چین میں زیرِ تعلیم چار طلبہ کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جاپان اور امریکہ نے چین سے اپنے شہریوں کا انخلا مکمل کر لیا ہے۔

چین کے حکام نے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 132 ہو گئی ہے، جب کہ تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 5974 تک پہنچ چکی ہے۔

اسلام آباد سے ہمارے نمائندے علی فرقان کے مطابق، وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ چین میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے چاروں پاکستانی طلبہ سے پاکستانی سفارت خانہ رابطے میں ہے اور ان کی مکمل دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔

اُن کے بقول، کرونا وائرس سے متاثرہ چین کے شہر 'ووہان' میں 500 سے زائد پاکستانی طلبہ رہائش پذیر ہیں جو وہاں کی مقامی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے متاثرہ طلبہ کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ طلبہ کے تحفظ اور علاج معالجے کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

چین سے متحدہ عرب امارات جانے والے ایک خاندان میں بھی کرونا وائرس کی موجودگی کی اطلاعات ہیں اور امارات کے محکمہ صحت نے بھی ملک میں کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، جاپان نے چینی شہر ووہان کو وبائی شہر قرار دیتے ہوئے وہاں سے اپنے 206 شہریوں کو نکال لیا ہے۔ اسی طرح امریکہ نے بھی خصوصی پرواز کے ذریعے اپنے 220 شہریوں کو چین سے نکال لیا جن میں 50 سفارت کار اور کنٹریکٹر بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ پہلا کیس گزشتہ برس چین کے صوبہ ہوبئی کے شہر ووہان میں سامنے آیا تھا۔

اب تک کرونا وائرس دنیا کے 15 ممالک میں پھیل چکا ہے۔ تاہم، صرف چین ایک ایسا ملک ہے جہاں اس وائرس سے متاثرین کی اموات ہو رہی ہے۔

ووہان میں پھنسے ہوئے لوگوں میں ہزاروں غیر ملکی شامل ہیں۔ اس وقت ووہان کی سڑکیں اور علاقے ویران نظر آ رہے ہیں اور لوگ گھروں تک محدود ہیں۔ شہر میں گاڑیوں میں سفر کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، جاپان کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر ممالک بھی ووہان سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے انتظامات میں مصروف ہیں۔ ان ممالک میں فرانس، جنوبی کوریا، قازغستان، جرمنی، مراکش، اسپین، کینیڈا، نیدر لینڈ، میانمار، آسٹریلیا، اسپین اور روس شامل ہیں۔

بدھ کو فرانس نے بھی اپنا پہلا طیارہ ووہان پہچا دیا ہے جو جمعرات کو فرانسیسی شہریوں کو لے کر واپس روانہ ہوگا۔ فرانس کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ متاثرہ مریضوں کا پیرس میں علاج ہوگا۔

چین کا شہر ووہان ویران نظر آرہا ہے۔ لوگ گھروں تک محدود ہوگئے۔
چین کا شہر ووہان ویران نظر آرہا ہے۔ لوگ گھروں تک محدود ہوگئے۔

جنوبی کوریا کا طیارہ جمعرات کو اپنے شہریوں کو لینے ووہان جائے گا۔ اسی طرح قازغستان نے بیجنگ سے اپنے 98 طالب علموں کو واپس لانے کے انتظامات شروع کر دیے ہیں۔

جرمنی رواں ہفتے اپنے 90، مراکش 100، کینیڈا 167، نیدر لینڈ 20 اور میانمار 60 شہریوں کو نکال لے گا۔

آسٹریلیا، اسپین اور روس بھی اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے انتظامات کو آخری شکل دے رہے ہیں۔ تاہم، ان شہریوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

'بھارتی شہری چین کا غیر ضروری سفر نہ کریں'

بھارت کی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزارتِ خارجہ نے چین سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ وہ کرونا وائرس کے مرکز ووہان سے بھارتی باشندوں کو نکالنے کا راستہ ہموار کرے۔

چینی انتظامیہ کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد شہری ہوا بازی کی وزارت لوگوں کو وہاں سے نکالنے کے انتظامات کرے گی۔ حکام کے مطابق، بھارتی باشندوں کے انخلا کے لیے طیارہ ممبئی ایئر پورٹ پر تیار کھڑا ہے۔

بھارت کی وزارتِ صحت نے بدھ کے روز ایک ایڈوائزری جاری کر کے بھارتی باشندوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چین کے دورے سے اجتناب کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چین میں مزید کیسز اور دوسرے ملکوں کے مسافروں سے متعلق کیسز کے پیش نظر ہدایت دی جاتی ہے کہ چین کا غیر ضروری سفر نہ کیا جائے۔

ایک تحقیق کے مطابق، بھارت 30 ایسے ملکوں میں شامل ہے جہاں کرونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG