رسائی کے لنکس

logo-print

چین: نسلی اقلیتوں کے خلاف سخت کارروائی کی وجہ مذہب ہے، دستاویز


چین کے مغرب بعید کے علاقے کی ایک زرعی کمیونٹی میں کئی عشروں تک ایک ایغور امام آنکھ کا تارا تھے۔ وہ جمعے کے روز اسلام کی بطور امن کے مذہب کے تبلیغ کیا کرتے تھے۔ اتوار کو وہ جڑی بوٹیوں کی مدد سے لوگوں کا علاج معالجہ کرتے تھے۔ اور، سردیوں میں کوئلہ خرید کر غریب لوگوں کو دیا کرتے تھے۔

لیکن، تین سال قبل جب ممتمن امر نامی امام کے آبائی علاقے سنکیانگ میں حکومت چین نے بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ شروع کی، تو امام کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا گیا، جبکہ ان کے تینوں بیٹوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

حال ہی میں سامنے آنے والے نئے دستاویز سےانکشاف ہوا ہے کہ امام کو ان کے تینوں بیٹوں اور کراکیکس کاؤنٹی کے دیگر سینکڑوں باشندوں کے ساتھ حراست میں ان کے مذہب اور خاندانی تعلقات کی وجہ سے قید کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ان دستاویز میں 311 زیر حراست افراد کے بارے میں تفصیلات درج ہیں۔ ساتھ ہی ان کے 2000 سے زائد اہلخانہ، رشتہ دار، ہمسائے اور احباب سے متعلق تفصیلات فہرست موجود ہیں۔

فہرست میں قید افراد کے نام، پتے، قومی شناختی نمبر، زیر حراست رکھے جانے کی تاریخ اور مقام، ساتھ ہی خاندان، مذہب اور ہمسایوں کے پتے درج ہیں۔ ان کو قید کرنے کی وجہ، اور یہ فیصلہ کہ آیا انھیں رہا کیا جاسکتا ہے یا نہیں، یہ بھی درج ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران مرتب کی گئی ان فہرستوں کے ریکارڈ کو دیکھ کر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس حکومتی محکمے نے یہ فہرست تیار کی ہے، اور کس کے لیے تیار کی گئی ہے۔

بحیثیت مجموعی، ان فہرستوں میں درج تفصیلات دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ کس قیدی کو حراستی کیمپوں میں رکھا جائے، اور کب چھوڑا جائے۔ یہ چین میں موجود دس لاکھ سے زائد نسلی اقلیتی باشندوں کو قید رکھنے کی اس وسیع کارروائی کا حصہ ہے، جس میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔

ان ریکارڈز سے معلوم ہوتا ہے کہ ان افراد کو ان کے مذہب کی وجہ سے قید میں ڈالا گیا۔۔نہ کہ شدت پسند سوچ کے حامل ہونے کی وجہ سے ،جیسا کہ حکام دعویٰ کرتے ہیں، ان میں نماز پڑھنے، مسجد جانے، یہاں تک کہ بڑی داڑھی رکھنے جیسی عام معمولات شامل ہیں ۔

ان فہرستوں میں پورے پورے خاندانوں کا زکر ہے ،جس کے عزیز قید کیے جاتے ہیں، ان کے باقی اہلخانہ بھی جلد یا بدیر کیمپوں میں لائے جاتے ہیں۔ اور یوں،ممتمن امر کی طرح، اس عمل میں خاندان کے خاندان سلاخوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں۔

اسی طرح، خاندان کا بیک گراؤنڈ اور رویے زیر غور آتے ہیں جب معاملہ کسی قیدی کی رہائی کا ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف کولوراڈو کے تحقیق کار، ڈیرن بائلر، جنھوں نے سنکیانگ کے علاقے میں نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر خصوصی ریسرچ کی ہے، کہتے ہیں کہ ’’یہ بات واضح ہے کہ مذہبی روایات کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ وہ معاشرے کو ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہیں، خاندانوں کو الگ تھلگ کرنے کے خواہاں ہیں، تاکہ وہ نئی تربیت اور نئی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہو جائیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG