رسائی کے لنکس

چین: صدر ژی دوسری مدت کے لیے پارٹی سربراہ منتخب


کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی کانگریس کے ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اجلاس کے اختتامی سیشن کی ایک تصویر

چونسٹھ سالہ صدر ژی جن پنگ اگلے پانچ سال کے لیے پارٹی کے جنرل سیکریٹری منتخب کرلیے گئے جس کا مطلب ہے کہ وہ مزید پانچ سال چین کے صدر رہیں گے۔

چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی نے صدر ژی جن پنگ کو ایک بار پھر پانچ سال کے لیے پارٹی کا سربراہ منتخب کرلیا ہے۔

بدھ کو کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس کے اختتام پر پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے ارکان نے جماعت کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے پولٹ بیورو کی سات رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان کو منتخب کیا۔

چونسٹھ سالہ صدر ژی جن پنگ اگلے پانچ سال کے لیے پارٹی کے جنرل سیکریٹری منتخب کرلیے گئے جس کا مطلب ہے کہ وہ مزید پانچ سال چین کے صدر رہیں گے۔

چین کے وزیرِا عظم 62 سالہ لی کیچیانگ بھی سات رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی کے دوبارہ رکن منتخب ہوگئے ہیں جب کہ دیگر پانچوں ارکان پہلی بار کمیٹی کے رکن بنے ہیں جن میں صدر ژی کے دو قریبی مشیر اور نظریاتی شخصیت کی شہرت رکھنے والے پارٹی کے ایک رہنما بھی شامل ہیں۔

لیکن صدر اور وزیرِاعظم سمیت منتخب ہونے والے تمام سات ارکان کی عمریں 60 سال یا اس سے زیادہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی نسبتاً نوجوان رہنما کی عدم موجودگی کے باعث بظاہر لگتا ہے کہ صدر شی جن پنگ 2022ء کے بعد بھی اقتدار میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

گوکہ حکمران جماعت نے ذمہ داریوں سے ریٹائرمنٹ کی کوئی باضابطہ عمر مقرر نہیں کررکھی لیکن ماضی میں پارٹی سربراہ عموماً 68 سال کے لگ بھگ اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوتے رہے ہیں۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی عموماً اپنے سیکریٹری جنرل کو پانچ سال کی پہلی مدت کے بعد پانچ سال کی دوسری مدت کے لیے بھی منتخب کرلیتی ہے۔

لیکن یہ بھی روایت رہی ہے کہ کسی سیکریٹری جنرل کے دوسری بار انتخاب کے وقت کسی ایسے نوجوان رہنما کو بھی اسٹینڈنگ کمیٹی کا رکن منتخب کیا جاتا ہے جس کے بارے میں یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ پانچ سال بعد پارٹی اور ملک کی سربراہی سنبھالے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس کا ہر پانچ سال بعد ہونے والا اجلاس اب 2022ء میں ہوگا لیکن اس وقت تک موجودہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں شامل تمام ارکان کی عمریں 68 برس یا اس کے قریب ہوں گی۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگلی کانگریس کو یا تو اسٹینڈنگ کمیٹی سے باہر کے کسی فرد کو پارٹی کا جنرل سیکریٹری نامزد کرنا ہوگا - جس کی روایت موجود نہیں - یا پھر صدر ژی جن پنگ ہی کو تیسری بار یہ ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔

رواں ہفتے کانگریس نے صدر ژی جن پنگ کے نظریات کو ان کے نام کے ساتھ پارٹی آئین کے رہنما اصولوں میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جدید چین کے بانی ماؤ زے تنگ اور چین کے صنعتی انقلاب کے بانی ڈین ژیاؤ پنگ کے بعد ژی جن پنگ تیسرے رہنما ہیں جن کے نظریات ان کے نام کے ساتھ پارٹی آئین کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس عمل سے صدر جن پنگ کی اقتدار اور پارٹی پر مضبوط گرفت اور مستقبل میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشان دہی بھی ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG