رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کے نامزد وزیر دفاع کا روس کے بارے میں سخت موقف


امریکہ کے نو منتخب صدر کے نامزد وزیر دفاع نے سینیٹ میں اپنی نامزدگی کے حوالے سے ہونے والی سماعت کے دوران روس کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

ٹرمپ کے نامزد وزیر دفاع جنرل ریٹائرڈ جیمز میٹس نے سینیٹ کے آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ کہ روس "ایک بڑا خطرہ ہے" اور امریکہ کو روس کے ساتھ کئی سالوں کے دوران اپنائی گئی مثبت سوچ سے کم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

میٹس نے کہا کہ "ایسے اُمور کی تعداد کم ہو رہی ہے جن پر ہم تعاون کر سکتے ہیں اور ایسے معاملات زیادہ ہیں جن پر ہمیں سخت موقف اختیار کرنا ہو گا۔"

امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل جمیز میٹس سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر کے طور پر کام کر چکے ہیں اور وہ نیٹو اتحاد کے اعلیٰ کمانڈر کے طور بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

میٹس نے جمعرات کو سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ روس نیٹو کو توڑنا چاہتا ہے اس لیے ہمیں یورپی اتحادیوں کے لیے فوجی تعاون کو بڑھانا ہو گا۔ جب کہ نو منتخب صدر ٹرمپ کا نیٹو کے بارے میں اس سے برعکس موقف ہے۔

میٹس نے کہا کہ "میری رائے ہے کہ وہ ملک ترقی کرتے ہیں جن کے اتحادی ہوتے ہیں اور وہ ملک جن کے اتحادی نہیں ہوتے وہ ترقی نہیں کرتے۔"

انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کو سب سے بڑا خطرہ، روس کے جارحانہ اقدامات، دہشت گرد گروپوں اور بحیرہ جنوبی چین میں چین کی کارروائیوں سے ہے۔

سینیٹ کے آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ ایریزونا سے ریپبلکن سینیٹر جان مکین نے میٹس سے پوچھا کہ کیا ان خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے پاس مضبوط فوج ہے، تو میٹس نے اس کے جواب میں کہا کہ " نہیں جناب۔"

شام و عراق میں سرگرم شدت پسند گروپ داعش کے بارے میں بات کرتے ہوئے نامزد وزیر دفاع نے کہا کہ شدت پسند گروپ کے گڑھ رقہ کا کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ تبدیل ہو سکتی ہے۔

میٹس نے کہا کہ "حکمت عملی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔"

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے نامزد سربراہ نے روس کے ساتھ ’’واضح انداز‘‘ اختیار کرنے کا عہد کیا اور کہا ہے کہ اذیت کے حربوں کا پھر سے استعمال شروع کرنے سے متعلق وائٹ ہاؤس کے کسی حکم نامے پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔

ری پبلیکن رُکنِ کانگریس، مائیک پومپیو نے، جِن کا کینسس سے تعلق ہے، جمعرات کے دِن سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سماعت کے دوران کہا کہ ’’آپ کے ساتھ میرا یہ وعدہ رہا کہ میں ہر روز اقتدار کے حامل حلقوں سے سچ ہی بولوں گا‘‘۔

پومپیو نے کہا کہ وہ امریکی انٹیلی جنس برادری کے تجزیے سے متفق ہیں کہ روس نے گزشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی، جس میں ٹرمپ فاتح قرار پائے۔ اُنھوں نے اِس رپورٹ کو ’’درست‘‘ قرار دیا۔

بقول اُن کے ’’ایک طویل مدت سے روسیوں کی یہی کوشش رہی ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے جسے امریکہ کو سنجیدگی سے لینا ہو گا، اور یہ ایسا خطرہ ہے جو ہم پر اثر انداز ہو سکتا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’مجھے اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ (امریکہ میں) جاری بحث ایک ایسا معاملہ ہے جسے ولادیمیر پیوٹن دیکھ کر یہ بولیں گے کہ، ’کیا بات ہے‘ یہی تو میری زندگی کا مقصد رہا ہے کہ امریکی سیاسی برادری میں شک کے بیج بوئے جائیں‘‘۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹر ڈیان فائنسٹائن، جِن کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے، اس جانب توجہ دلائی کہ صدارتی مہم کے دوران، ٹرمپ نے تفتیش کے دوران مشتبہ دہشت گردوں سے معلومات اخذ کرنے کی غرض سے چھان بین کا اضافی طریقہٴ کار جاری کرنے کی بات کی تھی۔ کئی برس قبل، پومپیو نے خود بھی صدر براک اوباما پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھوں نے اذیت کی روایات ختم کر کے ٹھیک نہیں کیا۔ تاہم، جمعرات کو پومپیو نے وعدہ کیا ہے کہ اِس ضمن میں وہ موجودہ معیار پر عمل پیرا ہوں گے۔

فائنسٹائن نے سوال کیا آیا ’’اگر آپ کو صدر یہ حکم دیں کہ سی آئی اے پھر سے تفتیش کے اضافی طریقہٴ کار اپنائے، جو فوج کے ’ریلڈ مینوئل‘ سے مطابقت نہیں رکھتے، تو کیا آپ اس پر عمل درآمد کریں گے؟‘‘

’’بالکل نہیں‘‘۔ پومپیو نے جواب دیا۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ منتخب صدر یا اُس وقت کے صدر ایسا کوئی حکم دے سکتے ہیں۔۔۔ میں ہمیشہ قانون کی پاسداری کروں گا‘‘۔

فائنسٹائن نے ادارے کے نامزد سربراہ سے اُن کی جانب سے ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی جوہری معاہدے کی مخالفت کے بارے میں سوال کیا۔ پومپیو نے معاہدے کی تفصیل پر بات نہیں کی، لیکن یہ وعدہ کیا کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد کا قریب سے مشاہدہ کیا جاتا رہے گا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک اور رُکن، رون وائڈن نے، جن کا تعلق اوریگان سے ہے، نامزد اہل کار سے پوچھا کہ ایک عام امریکی شہری سے انٹیلی جنس کے ملکی ادارے اتنا وسیع ڈیٹا کیوں حاصل کرتے ہیں۔

وائڈن نے سوال پوچھا آیا ’’آپ کے خیال میں، اِس کی کوئی حد ہے؛ اِس کی اتنی کیا ضرورت ہے؟‘‘

پومپیو نے توجہ دلائی کہ قانونی سرحدیں پہلے ہی سے طے ہیں؛ لیکن، مزید کہا کہ وہ ضروری ڈیٹا حاصل کرنے کے کام کے حق میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG