رسائی کے لنکس

بھارت میں پناہ کے متلاشی پاکستانی ہندوؤں کی حالتِ زار


"برسوں بھارت منتقل ہونے کے خواب دیکھے تھے لیکن سرحد پار آکر زندگی کی تلخیوں کا سامناکرنا پڑا۔ نہ کوئی نوکری ہے، نہ پیسہ اور نہ ہی کھانے پینے کوکچھ ہے۔"

اگست 1947 میں ستر سال قبل پاکستان اور بھارت دو ملک بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرے۔ اس وقت سرحد کی دونوں جانب جو ہجرت ہوئی وہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی۔

سکھ اور ہندو مذہب کے لوگوں نے پاکستان سے بھارت ہجرت کی جبکہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں نے پاکستان کا رخ کیا۔

بڑے پیمانے پر ہجرت کے باوجود بھارت میں مسلمان اور پاکستان میں ہندو آج بھی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔

پاکستان میں بسنے والے ہندؤ کئی مسائل کی شکایات اور کچھ الزامات عائد کرتے رہے ہیں، ان میں جبری طور پر مذہب تبدیل کروانا، ہندو لڑکیوں کا اغوا اور جبری طور پر مسلمان لڑکوں سے شادی اور معاشرے میں امتیازی سلوک کا سامنہ شامل ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان الزامات کے سبب ہندو بڑی تعداد میں پاکستان سے بھارت ہجرت کر رہے ہیں اور بھارت میں سرحد کے ساتھ عارضی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔

ان لوگوں کو قانونی طور پرکام کرنے کا حق نہیں۔ ان افراد کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ قریبی واقع کانوں میں غیر قانونی طور پر چوری چھپے کام کریں۔ان کی نقل و حرکت حکام نے محدود کر رکھی ہے۔

جوگداس بھی بھارت جانے والوں میں شامل ہیں اور جودھ پور کے نواحی علاقے میں ایک کیمپ میں رہائش پذیر ہیں۔

اے ایف پی کو اپنی روداد سناتے ہوئے 81سالہ جوگ داس جو اپنا پورا نام نہیں بتاتے انہوں نے کہا ’’ برسوں بھارت منتقل ہونے کے خواب دیکھے تھے لیکن سرحد پار آکر زندگی کی تلخیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نہ کوئی نوکری ہے، نہ پیسہ اور نہ ہی کھانے پینے کو کچھ ہے۔ ہم کسان تھے اور پاکستان میں کھیتوں میں کام کرتے تھے لیکن یہاں ہم جیسے لوگ روٹی کا بندوبست کرنے کے لئے پتھر توڑنے پر مجبور ہیں۔‘‘

"ہمارے لئے تو تقسیم اب بھی ختم نہیں ہوئی۔ ہندو اب بھی بھارت آنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب وہ یہاں آتے ہیں تو انہیں کچھ نہیں ملتا۔"

جوگداس کا خاندان قحط سے بچنے کے لیے تقسیم سے چند مہینے پہلے آج کے پاکستان منتقل ہوا تھا۔ ان کے بقول " تقسیم کے فوراً بعد ہندوؤں کو ڈرایا جانے لگا۔ کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرا جس میں ہم امن سے رہ سکے ہوں۔ میں بھارت آکر اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔ ہم تنہا ہیں۔‘‘

بھارت آنے والے زیادہ ترہندو پاکستان کے صوبہ سندھ سے آئے ہیں۔ یہ لوگ تھر کے صحرا سے ٹرین کا چار گھنٹے کا سفر طے کر کے راجستھان کے شہر جودھپور پہنچے ہیں۔

ان کے مطابق سوچ یہی تھی کہ ایک جیسا کلچر،کھانا اور زبان ہے تو راجستھان میں بسنا آسان ہوگا لیکن ان خیالات کے برعکس پاکستان سے ہجرت کرنے والے ہندو الگ تھلگ بنائے گئے کیمپوں میں مقامی آبادی سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حکام بھی انہیں شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔‘‘

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عقیدے کی بنیاد پر بھارت میں پناہ لینے والوں کے لئے آسانیاں فراہم کرنا چاہتی ہیں۔ گزشتہ سال قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے پناہ گزینوں کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ مرکزی حکومت کے پاس جانے کے بجائے وہ جس ریاست میں رہتے ہیں وہیں شہریت کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔

پاکستان سے آنے والے ہندو بھارت میں سات سال گزارنے کے بعد’فاسٹ ٹریک سٹیزن شپ‘ کے اہل ہیں لیکن بیوروکریسی کی جانب سے تاخیری حربوں کے باعث اس عمل کو مکمل ہونے میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔

سال 1997 میں پاکستان سے بھارت ہجرت کرنے والے 64 برس کے کھنہ رام جی کو 2005 میں بھارتی شہریت ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں یہ صورتحال دیکھ کربہت سے ہندو ہمت ہار گئے اور واپس پاکستان لوٹ گئے۔ ہم ایسے مویشی ہیں جن کا کوئی مالک نہیں۔ اپنے بل بوتے پرزندہ ہیں۔

جودھ پور میں پاکستانی ہندوؤں کے لئے فلاحی تنظیم چلانے والے ہندو سنگھ سوڈھا کا کہنا ہے جب 2014 میں نریندر مودی اقتدار میں آئے تو بڑی امیدیں تھیں لیکن انہوں نے مایوس کیا۔ جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، مہاجرین کڑی نگرانی میں آجاتے ہیں۔ ان کی زندگی جہنم بن گئی ہے۔ رہنے کا ٹھکانہ، تعلیم، صحت کی سہولت ہر چیزمتاثر ہوئی ہے۔

لیکن بعض سمجھتے ہیں کہ یہ سب برداشت کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔

65 سالہ ہورو جی اپنے دو جوان بیٹوں کے ساتھ دو سال پہلے بھارت منتقل ہوئے جب انہیں مسلمان ہمسایوں کی طرف سے قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG