رسائی کے لنکس

logo-print

ٹانک میں اسسٹنٹ کمشنر قتل


مقتول سول افسر کی سرکاری گاڑی جس پر گولیوں کے نشان واضح ہیں۔

فائرنگ سے کرامت اللہ خان کنڈی اور ایک راہ گیر زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر ایڈیشنل کمشنر زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کرامت اللہ کنڈی کو نامعلوم افراد نے دن دیہاڑے گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔ فائرنگ سے ایک راہ گیر بھی زخمی ہوا ہے۔

عینی شاہدین اور پولیس حکام نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کرامت اللہ کنڈی ڈیرہ اسماعیل خان سے دفتر آ رہے تھے کہ ٹانک شہر کے نواحی علاقے کشمیر چوک پر ان کی سرکاری گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔

فائرنگ سے کرامت اللہ خان کنڈی اور ایک راہ گیر زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر ایڈیشنل کمشنر زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔

ٹانک کے ضلعی پولیس افسر محمد عارف خان نے وائس آف امریکہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کرامت اللہ کی قتل کی تصدیق کردی ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی تفتیش کے مطابق کرامت اللہ کے خاندان کی ایک دوسرے خاندان کے ساتھ گزشتہ کئی برسوں سے دشمنی چلی آرہی تھی۔

محمد عارف خان کے مطابق ایک سال قبل کرامت اللہ کنڈی کا ایک بھائی بھی اس خاندانی دشمنی کے نتیجے میں قتل کیا گیا تھا۔

پولیس حکام نے بتایا ہے اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد قاتل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

تین دن قبل ٹانک سے متصل ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پرو میں دو پولیس اہلکاروں جب کہ شمالی وزیرستان کے ضلعی ہیڈ کوارٹر میران شاہ میں دو قبائلی رہنماؤں کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG