رسائی کے لنکس

آئین میں عدالتی مارشل لا کا کوئی تصور نہیں: چیف جسٹس


چیف جسٹس نے کہا کہ "نہ مارشل لا باہر سے، نہ مارشل لا اندر سے۔ یہ جس طرح کی گفتگو کی جا رہی ہے کہ کوئی جوڈیشل مارشل لا (ہو)، اس کا آئین میں کوئی تصور نہیں ہے۔"

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بعض حلقوں کی طرف سے سامنے آنے والی اس رائے کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات سے قبل ’جوڈیشل مارشل لا‘ لگ سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے جمعرات کو ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ "نہ مارشل لا باہر سے، نہ مارشل لا اندر سے۔ یہ جس طرح کی گفتگو کی جا رہی ہے کہ کوئی جوڈیشل مارشل لا (ہو)، اس کا آئین میں کوئی تصور نہیں ہے۔"

رواں ہفتے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں جوڈیشل مارشل لا لگا کر شفاف انتخابات کرائے جائیں۔

لیکن ان کے اس بیان پر مختلف حلقوں کی تنقید کے بعد شیخ رشید نے اپنے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس نگران وزیرِ اعظم نامزد کریں۔

شیخ رشید کے بیان پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت بعض دیگر سیاسی جماعتون کے رہنماؤں نے سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی طرح کے مارشل کا مطالبہ آئین کے خلاف ہے۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صرف ووٹ کی قدر ہونی چاہیے۔

"پاکستان میں صرف ایک طرزِ حکومت ہے اور وہ طرزِ حکومت جمہوریت ہے، جمہوریت ہے اور جمہوریت ہے۔ لوگوں کی ووٹ کی قدر ہے۔ ان کی ووٹوں کی اہمیت ہے اور جو حکومت اس ملک میں قائم ہو گی وہ آئین اور قانون کے مطابق شفاف انتخابات کے ذریعے بنے گی۔"

پاکستان کی موجودہ حکومت رواں سال جون میں اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے جا رہی ہے اور آئین کے مطابق نگران حکومت کی تشکیل کے لیے مشاورت کا عمل بھی شروع کیا جاچکا ہے۔

آئین کے مطابق عام انتخابات سے قبل وزیرِ اعظم اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف نگران وزیرِ اعظم کے نام پر مشاورت کرتے ہیں اور اگر وہ کسی نام پر متفق نہ ہو سکیں تو یہ معاملہ آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے جس میں حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کی مساوی نمائندگی ہوتی ہے۔

اگر پارلیمانی کمیٹی بھی نگران حکومت کا معاملہ اتفاقِ رائے سے حل نہ کر سکے تو پھر یہ اختیار الیکشن کمیشن کو ہوتا ہے کہ وہ نگران وزیرِ اعظم مقرر کرے۔

آئندہ عام انتخابات سے قبل جہاں نگران وزیرِ اعظم کے نام پر مشاورت ہو رہی ہے وہیں جمعرات کو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ نگران وزیرِ اعظم اور وزارئے اعلیٰ کا دائرۂ اختیار بھی طے ہونا چاہیے جس کے لیے اُنھوں نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کی بھی تجویز دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG