رسائی کے لنکس

جمہوریت کو 'ڈی ریل' نہیں ہونے دیں گے: چیف جسٹس


چیف جسٹس ثاقب نثار (فائل فوٹو)

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک میں جمہوریت کو پٹڑی سے نہ اترنے دینے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ججز بغیر کسی دباؤ میں آئے قانون کے مطابق انصاف فراہم کریں۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں ججز سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے ایک ستون کے طور پر وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آئین مقدم ہے اور اسی طرح آئین سازی کرنے والا ادارہ پارلیمان بھی بالادست ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کسی پر الزام نہیں لگاتے لیکن عدلیہ کو آئین و قانون کے مطابق ہی فیصلے کرنے ہیں اور قانون سازی کی ذمہ داری پارلیمان کی ہے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکمران جماعت مسلم لیگ ن اپنے قائد نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے پر تو تنقید کرتی آ رہی تھی لیکن رواں ہفتے اپنے ایک سینیٹر کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر سنائی گئی سزا پر بھی شاکی دکھائی دیتی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے سینیٹر نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے پانچ سال کے لیے پارلیمان کا رکن بننے کے لیے نااہل بھی قرار دیا تھا جب کہ دیگر دو وزرا کو بھی توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی تقاریر میں کھلے عام اپنے خلاف عدالتی فیصلے کو عوام کے مینڈیٹ کی توہین قرار دیتے آ رہے ہیں اور ان کے بقول عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کا احترام یقینی بنایا جانا بھی ضروری ہے۔

ہفتہ کو اپنے خطاب میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدلیہ پر بعض مخصوص مقدمات پر کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے لیکن ان کے بقول عدلیہ کسی منصوبے کا حصہ نہیں اور کسی کے بھی ساتھ نا انصافی نہیں کی جائے گی۔

ادھر وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے عدلیہ کی عملداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف سیاسی کارکنوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے قانون کی بالادستی ثابت نہیں ہو گی۔

ہفتہ کو ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "جس دن عدالت سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو بلا کر پولیس کو ہدایت کرے کہ وہ انھیں جیل میں ڈالیں تو وہ قبول کریں گے کہ سپریم کورٹ آزاد ہے۔"

حکمران جماعت کی طرف سے عدالتی فیصلوں پر ہونے والی تنقید پر سیاسی و مبصر حلقے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ یہ اداروں سے متعلق بداعتمادی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے لیکن مسلم لیگ ن کے مطابق وہ قانون کا احترام کرتی ہے تاہم فیصلوں پر تنقید اس کا حق ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG