رسائی کے لنکس

لاک ڈاؤن کے باعث صاف ماحول زندگیاں بچانے میں معاون: رپورٹ


(فائل فوٹو)

بیجنگ میں نیلا آسمان، نئی دہلی میں معمول سے زیادہ صاف ہوا، لاس اینجلس میں سیکڑوں کلو میٹر دور چوٹیوں کے نظارے، کرونا وائرس کے بے شمار مہلک اثرات کے باوجود اس وبا سے دنیا بھر کی آلودگی میں قابلِ ذکر کمی آئی ہے۔

کرونا وائرس کے چند مثبت اثرات میں سے ایک ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی ہے جو لاک ڈاؤن کے سبب کارخانے بند ہونے، گاڑیوں اور ایندھن کے کم استعمال کی وجہ سے ظاہر ہو رہی ہے۔ آلودگی میں کمی کے انسانی صحت پر بھی خاصے مفید اثرات سامنے آ رہے ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آلودگی میں کمی سے اچانک یا کسی اٹیک سے ہونے والی اموات کی شرح کم ہوئی ہے۔ دمے کے مرض میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ تحقیق ناروے کے ایک ماحولیات سے متعلق تحقیقی ادارے 'سینٹر فور انٹرنیشنل کلائمیٹ ریسرچ' نے کچھ دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آلودگی کم ہونے سے سات ہزار کے لگ بھگ اچانک اموات اور تقریباً اتنے ہی دمے کے حملوں میں بھی کمی آئی ہے۔

تحقیق کے دوران 27 ممالک کے 10 ہزار سے زائد ایئر مانیٹرز کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے اور اس کا موازنہ گزشتہ تین سال کی ایئر کوالٹی کے اعداد و شمار سے کیا گیا ہے۔

تحقیق کاروں نے ہوا میں پائے جانے والے تین آلودہ عناصر نائٹروجن ڈائی آکسائڈ، اوزون اور پی ایم 2٫5 پر تحقیق کی ہے جو انتہائی چھوٹے ذرات ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں میں داخل ہو کر انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔

تحقیق کی شریک مؤلف اور سینٹر فور انٹرنیشنل کلائمیٹ ریسرچ کی سینئر ریسرچر کرسٹین اینن نے کہا ہے کہ ہم آلودگی کے صحت پر ہونے والے اثرات کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہیں۔ نائٹروجن ڈائی آکسائڈ سے ہونے والی آلودگی ہر سال دنیا بھر میں 40 لاکھ کے لگ بھگ بچوں کو دمے کے مرض میں مبتلا کرتی ہے۔

اینن کے بقول اوزون اور پی ایم 2٫5 کے ہوا میں موجود ذرات سالانہ 40 سے 90 لاکھ قبل از اموات کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں سے اکثر اموات اسٹروکس، دل کے امراض، پھیپھڑوں اور سانس کے امراض سے ہوتی ہیں۔

اینن اور ان کے ساتھیوں نے اپنی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث نائٹروجن ڈائی آکسائڈ میں 29 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ اوزون میں تقریباً 11 فی صد کمی آ ئی ہے۔ پی ایم 2٫5 کسی علاقے میں کم ہوئی ہے اور کہیں بالکل نہیں ہوئی۔

تحقیق کے مطابق ہوا میں پائے جانے والے ان ذرات کی کمی سے محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 7400 اموات کم ہوئی ہیں جب کہ بچوں میں دمے کے 6600 کیسز کم سامنے آئے ہیں۔

محققین کا اندازہ ہے کہ صرف بھارت میں ہی صاف آب و ہوا سے 5300 زندگیاں محفوظ ہوئی ہیں جب کہ چین میں 1400 کے قریب کم اموات ہوئی ہیں۔
البتہ کرسٹین اینن نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پیشِ نظر کیا جانے والا لاک ڈاؤن چوں کہ طویل عرصے تک قائم رہنے والا نہیں ہے۔ اس لیے اسے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کا طریقہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

دوسری جانب 'یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا' میں 'انوائرمینٹل ہیلتھ' کے ایک پروفیسر مائیکل براور نے اس تحقیق سے متعلق کہا ہے کہ یہ ایئر کوالٹی پر کرونا وائرس کے اثرات کے موضوع پر ہونے والی سب سے جامع اور تفصیلی ریسرچ ہے۔

لیکن ان کے بقول صحت پر ہونے والے اثرات کے جو اندازے لگائے گئے ہیں، ان کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

براور اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ آلودگی میں کمی سے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ محققین اتنے وثوق سے یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کتنی زندگیاں محفوظ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریسرچرز عالمی وبا کے خاتمے کے بعد دوبارہ تحقیق کریں اور درست نتائج مرتب کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG