رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل،فلسطین امن کے لیے سنجیدہ ہیں:کلنٹن


امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی رہنمامشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل کی کوششوں کی طرف گامزن ہیں ۔

بدھ کے روز یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کلنٹن نے کہا کہ یہ رہنما بنیادی مسائل کو مکمل طور پر سمجھ چکے ہیں جو ان کے بقول صرف ”روبرومذاکرات“ کے ذریعے ہی حل ہوسکتے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ نے اس سے قبل بدھ کی صبح اسرائیلی صدر شمون پریز سے ملاقات میں کہا کہ نتن یاہو اور عباس امن عمل کی طرف سنجیدگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ”ان رہنماؤں سے گھنٹوں گفتگو کرنے کے بعد مجھے یقین ہے کہ وہ مخلص ہیں اور اپنے اقدامات کے نتائج سے آگاہ بھی“۔

اسرائیلی صدر نے ہلری کلنٹن سے کہا کہ براہ راست امن مذاکرات صحیح سمت پر ہیں۔ ان کے بقول جتنا جلد اس پر عمل درآمد ہوگا فریقین کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

اسرائیلی صدر کا کہنا تھا کہ چند ماہ قبل وہ براہ راست مذاکرات کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے جو کہ اب ہورہے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان منگل کو مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندے جارج مچل نے اس کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ مذاکرات مجموعی طور پر مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں لیکن انھوں نے اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا کہ آیا یہودی بستیوں کی تعمیر کے کلیدی مسئلے کے حل پر بات چیت آگے بڑھی ہے۔

مچل کا کہنا تھا کہ یہودی بستیوں کے معاملے پر امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اوباما انتظامیہ چاہتی ہے کہ اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر پر عائد دس ماہ کی پابندی میں توسیع کرے جو رواں ماہ ختم ہورہی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت یہودی بستیوں کی تعمیر پر عائد پابندی میں توسیع نہیں کرے گی ، لیکن انھوں نے یہ اشارہ دیا تھا کہ اسرائیل مستقبل میں تعمیرات محدود کردے گا۔

فلسطینی صدر محمود عباس یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں تعمیرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا تو وہ امن مذاکرات سے الگ ہوجائیں گے۔

XS
SM
MD
LG