رسائی کے لنکس

logo-print

بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں ہیلری کلنٹن کی یاد داشتیں


ہیلری ان چند اعلیٰ سیاسی و فوجی حکام میں شامل تھیں جنہوں نے ہزاروں میل دور ایبٹ آباد میں ہونے والی یہ پوری کاروائی وہائٹ ہاؤس کے تہ خانے میں بنے ایک خصوصی 'آپریشن روم' میں صدر براک اوباما اور نائب صدر جوبائیڈن کے ہمراہ براہِ راست ملاحظہ کی تھی

امریکہ کی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ عراق اور افغانستان میں حاصل ہونے والے جنگی تجربے نے ایک برس قبل القاعدہ کے راہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے جانے والے امریکی آپریشن کو نتیجہ خیز بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکی اسپیشل فورسز کے ایک خصوصی دستے 'سِیل ٹیم 6' نے دو مئی 2011ء کی شب پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں خفیہ طور پر چھاپہ مار کاروائی کرکے ایک مکان میں روپوش القاعدہ کے بانی راہنما بن لادن کو ہلاک کردیا تھا۔

اسامہ کی ہلاکت کا ایک برس مکمل ہونے پر سیکریٹری کلنٹن نے اس اہم رات کی بعض تفصیلات بیان کی ہیں۔

ہیلری ان چند اعلیٰ سیاسی و فوجی حکام میں شامل تھیں جنہوں نے ہزاروں میل دور ایبٹ آباد میں ہونے والی یہ پوری کاروائی وہائٹ ہاؤس کے تہ خانے میں بنے ایک خصوصی 'آپریشن روم' میں صدر براک اوباما اور نائب صدر جوبائیڈن کے ہمراہ براہِ راست ملاحظہ کی تھی۔

کلنٹن بتاتی ہیں کہ انہیں یاد ہے کہ اس کمرے کے باہر موجود 'اسپیشل فورس' کا ایک افسر دیگر حکام کو بتا رہا تھا کہ، "آپ کو یہ کاروائی یقیناً بڑی ہی ڈراؤنی اور سنسنی خیز لگ رہی ہوگی لیکن یقین کیجئے کہ ہم یہ سب پہلے بھی کرچکے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہیلی کاپٹر سے جانا، ہدف پہ پہنچنا، اپنے مطلوبہ شخص کو تلاش کرنا اور وہاں سے نکل آنا - امریکی فوج یہ سب کچھ ایک ہزار سے بھی زائد بار کرچکی ہے"۔

لیکن سیکریٹری کلنٹن کہتی ہیں کہ برسرِ زمین کاروائیوں کے اس وسیع تجربے کے باوجود صدر اوباما کے مشیروں نے اسامہ کی گرفتاری یا ہلاکت کے لیے کی جانے والی اس کاروائی کی منصوبہ بندی انتہائی باریک بینی سے کی تھی اور ہر پہلو کو مدِ نظر رکھا تھا۔

ان کے بقول، "ہم نے اپنی بھرپور کوشش کی تھی کہ صدر کو اس منصوبے کے بارے میں حتی الامکان ذمہ دارانہ اور حقیقت پر مبنی رائے دی جائے۔ کیوں کہ آخرِ کار اس کاروائی کو کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ انہیں ہی کرنا تھا۔ اور انہوں نے اسے منظور کرلیا"۔

ہلیری کلنٹن کہتی ہیں کہ وہ خود بھی اسی رائے کی حامی تھیں کہ امریکہ کو ایبٹ آباد کے ایک بڑے گھر میں مقیم دنیا کے سب سے مطلوب شخص کو نشانہ بنانے کا خطرہ مول لینا چاہیے۔

سیکریٹری کلنٹن نے اپنے ان خیالات کا اظہار ' یو ایس نیول اکیڈمی' میں کیا جہاں انہیں 'ایشیا – اوقیانوسیہ' خطے کے لیے امریکہ کی نئی حکمتِ عملی کے موضوع پر خطاب کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

خطاب کے بعد سیکریٹری کلنٹن سے اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور اس رات کے بارے میں ان کے خیالات کےبارے میں سوال کیا گیا تھا جس کے جواب میں انہوں نے یہ تفصیلات بیان کیں۔

کلنٹن نے بطورِ وزیرِ خارجہ 2009ء میں پاکستان کے پہلے دورے کا یادیں تازہ کرتے ہوئے امریکہ کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے بارے میں پاکستانی حکام کو علم تھا۔

"میں یہ تسلیم ہی نہیں کرسکتی کہ پاکستانی حکومت میں سے کسی کو بھی اس بات کا علم نہ ہو کہ بن لادن کہاں ہے۔ مجھے یقین تھا کہ پاکستانی حکام میں سے کوئی نہ کوئی تو بن لادن کی جائے قیام سے واقف تھا"۔

انہوں نے بتایا کہ جب امریکی خفیہ اداروں نے اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا سراغ لگا لیا تو اعلیٰ حکام کے ایک بہت ہی چھوٹے سے گروہ نے اس بات پر بحث شروع کی کہ اس کی گرفتاری یا ہلاکت کے لیے فضائی حملہ کیا جائے یا زمینی راستے سے وہاں پہنچا جائے۔

ان کے بقول، بالآخر اس اہم کاروائی کے لیے'سِیل ٹیم 6' کا انتخاب کیا گیا۔ اعلیٰ ترین عہدیدار وہائٹ ہاؤس کے تہہ خانے میں بنے 'بنکر' میں جمع ہوئے اور انہوں نے اس پوری کاروائی کی تفصیل براہِ راست دیکھی اور سنی جو وہاں سے ہزاروں میل دور ایبٹ آباد میں جاری تھی۔

کلنٹن نے وردی میں ملبوس بحریہ کے اہلکاروں کو بتایا کہ کاروائی کی ویڈیو ہیلی کاپٹر سے نشر کی جارہی تھی۔ ان کے بقول، "جب امریکی ٹیم کے اہلکار گھر میں داخل ہوئے تو اس کے بعد ویڈیو آنا بند ہوگئی۔ کچھ وقت تک کے لیے ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اسکرین تاریک تھی اور دوسری جانب مکمل سناٹا۔ اس وقت ہم سب خود کو پرسکون رکھنے اور آنے والے لمحات کے لیے تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ان 35 سے 37 سیکنڈ کے دوران میں شاید ہی کسی نے سانس لی ہو"۔

کلنٹن کے بقول، بالآخر یہ کاروائی اپنے انجام کوپہنچی اور وہ صدر اوباما کے ہمراہ وہائٹ ہاؤس کے 'ایسٹ روم' پہنچیں جہاں سے امریکی صدر نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وہ خبر سنائی جس کا امریکیوں کو برسوں سے انتظار تھا۔

XS
SM
MD
LG