رسائی کے لنکس

logo-print

اسامہ عرب انقلابی تحریکوں سے خائف تھے: امریکی عہدیدار


ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن اپنی ہلاکت سے قبل 'بہارِ عرب' کے دوران میں ابھرنے والی قوتوں کے باعث اپنی تحریک کی اہمیت کم ہونے پر تشویش کا شکار تھے۔

یہ انکشاف امریکہ کی 'نیشنل انٹیلی جنس' کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے 'وائس آف امریکہ' کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔

کلیپر نے کہا ہے کہ عرب دنیا میں اٹھنے والی احتجاجی تحریک القاعدہ سے مختلف تھی، اس تحریک کے شرکا جہادی نظریات سے دور تھے اور ان کی خواہشات اور محرکات مختلف تھے۔

ان کے بقول، اسی لیے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ کے رہنما ان سب حقائق سے آگاہ تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ عربوں کی اس سیاسی تحریک نے انہیں اور ان کی تنظیم کو تنہا کردیا ہے۔

کلیپر کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد کے ایک رہائشی کمپاؤنڈ میں خاموشی سے زندگی گزارنے والے اسامہ نے 11 ستمبر 2001ء کے حموں کےبعد بھی امریکہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے لیے نت نئے منصوبے بنانے کا سلسلہ ترک نہیں کیا تھا۔

انٹیلی جنس ماہرین سمجھتے ہیں کہ اسامہ کی زندگی میں ہی القاعدہ کے پاکستان میں موجود سرگرم دھڑے کی عوامی مقبولیت اور اہمیت میں کمی واقع ہونا شروع ہوچکی تھی۔

امریکہ کی 'جارج میسن یونی ورسٹی' سے منسلک امورِ دہشت گردی کے ماہر آڈرے کرتھ کرونن کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے حملوں میں غیر مسلموں سے زیادہ مسلمان مارے گئے ہیں اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث مسلم دنیا میں اس تنظیم کی حمایت میں کمی آئی ہے۔

کرونن کہتے ہیں اسامہ کی ہلاکت کے لیے کی جانے والی امریکی کاروائی نے القاعدہ پر خاصا اثر ڈالا ہے۔ لیکن ان کےبقول اس تحریک کا بغور جائزہ لیا جائے تو تو پتا چلتا ہے کہ القاعدہ اس کاروائی سے کئی برس پہلے ہی زوال کا شکار ہونا شروع ہوگئی تھی۔

اب جب کہ اسامہ بن لادن کی موت کو ایک برس مکمل ہونے کو آرہا ہے، دانشور حلقے اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ اپنے بانی سربراہ کی موت کے ایک برس بعد اب القاعدہ کس حال میں ہے؟

'نیشنل انٹیلی جنس' کے ڈائریکٹر کلیپر کہتے ہیں کہ القاعدہ کا سرگرم دھڑا اب ویسا خطرہ نہیں رہا ہے جیسا کبھی ماضی میں ہوا کرتا تھا کیوں کہ اسامہ کی طرح ان کے کئی قریبی ساتھی بھی مارے جاچکے ہیں۔ لیکن ان کے بقول ابھی مغربی ممالک کو نگرانی اور حفاظتی انتظامات میں کمی نہیں لانی چاہیے۔

کلیپر کے بقول، "القاعدہ یقیناً کمزور ہوئی ہے لیکن اس کا خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔اسی لیے میں کہتا ہوں کہ القاعدہ پر دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے"۔

کلیپر کا کہنا ہے کہ القاعدہ کی نسبتاً آزاد شاخیں افریقہ اور یمن میں موجود ہیں لیکن ان کے بقول ان میں سے بیشتر مغرب کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں ہیں۔

امریکی عہدیدار کہتے ہیں کہ القاعدہ کی بیشتر شاخیں مقامی سطح پر الجھی ہوئی ہیں اور امریکہ کو براہِ راست نشانہ بنانے کی خواہش یا صلاحیت نہیں رکھتیں۔لیکن وہ القاعدہ کی یمنی شاخ 'القاعدہ ان عریبین پینی سولا'کو امریکہ اور یورپ دونوں کے لیے انتہائی خطرناک گردانتے ہیں۔

کلیپر کہتے ہیں کہ انٹیلی جنس کے حلقوں میں یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ شدت پسند شام جیسے ممالک میں 'بہارِ عرب' کی تحریکوں کا فائدہ اٹھا کر طاقت پکڑ سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG