رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں روسی کارروائیوں پر امریکی اتحاد کی تنقید


دریں اثناء روس کے صدر ولادیمر پوٹن جمعہ کو پیرس میں فرانس کے صدر فرانسواں اولاند سے ملاقات کی ہے جس میں شام کے تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

روس نے شام میں جمعہ کو مزید فضائی کارروائی کیں جب کہ امریکی اتحاد نے ماسکو پر زور دیا ہے کہ وہ شامی حزب مخالف پر حملوں کو بند کرے اور داعش کے اہداف کو نشانہ بنانے پر توجہ دے۔

امریکہ کی زیر قیادت اتحاد کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ فوجی اقدام صورتحال کو مزید خراب کرنے کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کو ہوا دینے کا باعث بنے گا۔"

یہ بیان ترکی کی وزارت خارجہ کی ویب سائیٹ پر جاری کیا گیا۔

اس اتحاد میں امریکہ، برطانیہ، ترکی، فرانس، جرمنی، قطر اور سعودی عرب شامل ہیں اور یہ گزشتہ سال سے شام میں داعش کے اہداف کو نشانہ بناتے آرہے ہیں۔

دریں اثناء روس کے صدر ولادیمر پوٹن جمعہ کو پیرس میں فرانس کے صدر فرانسواں اولاند سے ملاقات کی ہے جس میں شام کے تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

روس نے بدھ کو شام میں فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا اور اس کا اصرار ہے کہ وہ داعش کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ لیکن امریکہ اس پر الزام عائد کرتا ہے کہ یہ مہم اس نے بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں شروع کر رکھی ہے۔

جمعرات کو بھی روس کے لڑاکا طیاروں نے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں امریکہ کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کو ہدف بنایا گیا۔

وائٹ ہاؤس ان فضائی کارروائیوں پر تنقید کرتا آیا ہے۔

جمعرات کو ترجمان جوش ارنسٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ شام میں حزب مخالف کے خلاف بلا امتیاز فوجی آپریشن روس کے لیے خطرناک ہے۔"

دونوں ملکوں کے فوجی عہدیداروں نے بھی شام کے معاملے پر تبادلہ خیال ہے اور پینٹاگان کے مطابق امریکہ اور روس کے فوجی عہدیداروں کے درمیان آنے والے دنوں میں ٹیلی کانفرنس کا ایک اور دور ہوگا۔

اس بات چیت کا مقصد یہ ہے کہ شام میں دونوں ملکوں کی فوجوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے آنے سے بچانا ہے۔

XS
SM
MD
LG