رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے: لاوروف


لاوروف نے بتایا کہ امریکہ کی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اُس کا ہدف داعش کے شدت پسند، القاعدہ سے منسلک النصرہ محاذ اور دیگر دہشت گرد ہیں۔... لاوروف نے اقوام متحدہ سے خطاب میں کہا ہے کہ ہمارا مؤقف بھی تقریباً یہی ہے

شام میں فضائی کارروائی کے حوالے سے امریکہ سے نااتفاقی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ جب معاملہ دہشت گردوں کی شناخت کا ہو، تو روس دولت اسلامیہ کے خلاف نبردآزما امریکی قیادت والے اتحاد سے مختلف نہیں۔

جمعرات کو ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، لاوروف نے بتایا کہ امریکہ کی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اُس کا ہدف داعش کے شدت پسند، القاعدہ سے منسلک النصرہ محاذ اور دیگر دہشت گرد ہیں۔

لاوروف نے اقوام متحدہ سے خطاب میں کہا ہے کہ ہمارا مؤقف بھی تقریباً یہی ہے۔

دریں اثنا، روسی جیٹ طیاروں نے آج دوسرے روز بھی شام میں فضائی حملے جاری رکھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اہداف پر نہ صرف دولت اسلامیہ کے انتہا پسند ہیں، بلکہ امریکہ کے حمایت یافتہ معتدل اپوزیشن کے لڑاکا بھی اس میں شامل ہیں۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ روس شام میں کن عناصر کو دہشت گرد قرار دیتا ہے، تو لاوروف نے کہا کہ ’اگر کوئی دہشت گردانہ عمل کرتا ہے، دہشت گرد کی طرح گھومتا ہے، دہشت گرد کے طور پر لڑتا ہے، تو وہ دہشت گرد ہے۔‘

جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے پوچھا گیا کہ کیا وہ لاوروف کے خیالات سے متفق ہیں کہ دونوں ملک ایک ہی طرح کے لوگوں کو ہدف بنا رہے ہیں، تو اُن کا کہنا تھا کہ ’ہاں۔ سوچ کی حد تک یہ درست ہے۔ لیکن، ہم ابھی وہاں نہیں پہنچے جہاں ہم تحفظ اور سلامتی کی ضمانت دے سکیں اور ذمہ داری باٹ سکیں‘۔

کیری نے مزید کہا کہ اگلے چند روز کے دوران، امریکہ اور روس اہداف کے بارے میں بات چیت کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

روس کے وزیر دفاع نے ایک ٹیلی ویژن رپورٹ میں کہا ہے کہ روسی طیاروں نے داعش کے درجن بھر ٹھکانوں کو ہدف بنایا ہے، جس میں کمان کا مرکز اور اسلحے کے دو ڈپو شامل ہیں۔

تاہم، روس نے تسلیم کیا کہ وہ انتہا پسند گروپ کے علاوہ شدت پسندوں کے گروہوں کو بھی ہدف بناتا ہے۔

XS
SM
MD
LG