رسائی کے لنکس

بوسنیا میں ہزاروں مہاجرین 'غیر انسانی ماحول' کے حامل کیمپ میں رہنے پر مجبور


کیمپ میں موجود اکثر افراد کروشیا کے راستے یورپ جانے کے خواہش مند ہیں

یورپ جانے کے خواہش مند ہزاروں مہاجرین اور تارکین وطن بوسنیا میں ایک کیمپ میں شدید سردی میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بنیادی سہولیات سے محروم اس کیمپ میں ان کو سردی کا پورا موسم گزارنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' بوسنیا کے شمال مغرب میں واقع کیمپ میں مہاجرین اور تاریکین وطن کی بڑی تعداد موجود ہے۔

خیال رہے کہ کروشیا کے سرحد کے قریب واقع اس کیمپ کو 'ووکجیک ٹینٹ کیمپ' کا نام دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے اس کو خطرناک اور غیر انسانی ماحول کا حامل کیمپ قرار دیتے ہیں۔

اس میں وہ زیادہ تر وہ افراد مقیم ہیں جو کروشیا کی سرحد عبور کرکے یورپ جانے کے خواہش مند ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کئی افراد ایسے بھی ہیں جو متعدد بار سرحد عبور کرنے کی کوشش کر چکے ہیں تاہم کامیاب نہ ہونے پر اب بنیادی سہولیات سے محروم اس کیمپ میں موجود ہیں۔

وکجیک کیمپ بوسنیا کے اس علاقے سے زیادہ دور نہیں ہے جہاں 1992 سے 1995 کے درمیان جنگ کے دوران بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔ جہاں اب بھی ایسی دھماکہ خیز سرنگیں ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔

'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق اس کیمپ میں موجود افراد دن بھر قریبی جنگل سے لکڑیاں جمع کرنے میں گزارتے ہیں تاکہ رات میں ان سے آگ لگا کر تپش حاصل کر سکیں۔ بوسنیا کی شدید سرد راتوں میں یہ ان لوگوں کو گرمی فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔

اس کیمپ میں چونکہ بنیادی ضروریات کے انتظامات نہیں ہیں اس لیے نہانے سمیت دیگر ضروریات یہاں کرنا ممنوع ہے اس کے کیمپ میں مقیم افراد کو کھلے علاقے میں جانا پڑتا ہے جہاں کسی قسم کی پوشیدگی نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے آرام دہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کیمپ میں موجود مہاجرین اور تارکین وطن کو دن میں صرف ایک بار ہی کھانا میسر آتا ہے جو کہ امدادی ادارے ہلال احمر کے کارکن تقسیم کرتے ہیں۔

ان مہاجرین کو ممکنہ طور پر اس کیمپ میں سردی کا پورا عرصہ گزارنہ پڑ سکتا ہے۔ وکجیک کیمپ مقامی انتظامیہ نے مرکزی حکومت کی جانب سے تنقید کے بعد قائم کیا تھا۔ اس کے لیے جس مقام کا انتخاب کیا گیا تھا وہاں پہلے فضلہ پھینکا جاتا تھا۔

یورپ جانے کے خواہش مند اکثر تارکین وطن بوسنیا کے راستے کروشیا سے یورپ میں داخل ہونے کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے مہاجرین کی زیادہ تعداد پر مقامی انتظامیہ کو مرکزی حکومت کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ ملک میں داخل ہونے والے مہاجرین میں حکومت کی معاون نہیں ہے۔

خیال رہے کہ اب بوسنیا کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ان علاقوں میں چھ ہزار سے زائد مہاجرین اب بھی موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG