رسائی کے لنکس

'سی آئی اے کے سربراہ کا بیان باہمی اعتماد کے لیے سود مند نہیں'


مائیک پومپیو

پاکستان کے اعلیٰ عہدیدار اور تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ امریکی سی آئی اے کے سربراہ کا یہ بیان اسلام آباد اور واشنگٹن کے باہمی اعتماد کے لیے کسی طور سود مند نہیں ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے قبائلی علاقے سے بازیاب کروائے جانے والے کینڈین امریکی خاندان کو اغوا کاروں نے پانچ سال تک پاکستانی علاقے میں حراست میں رکھا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ' آئی ایس پی آر' اور حکومت نے یہ کہا تھا کہ امریکی شہری کیٹلان کولمین اور ان کے کینڈین شوہر جوشوا بوئیل اور ان کے تین بچوں کو گزشتہ ہفتے پاکستانی فورسز نے افغان سرحد سے ملحقہ علاقے سے اس وقت بازیاب کروایا تھا جب انھیں شدت پسند افغانستان سے پاکستان میں منتقل کر رہے تھے۔

یہ جوڑا 2012ء میں افغانستان میں اغوا کے بعد پانچ سال تک اغو کاروں کی تحویل میں رہا اور اس دوران ان کے تین بچے بھی پیدا ہوئے تھے۔

امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی 'سی آئی اے' کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے جمعرات کوواشنگٹن میں فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسز میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا تھا کہ"گزشتہ ہفتے ہمیں ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب ہم نے چار امریکی شہریوں کو بازیاب کروا لیا جنہیں پانچ سال پاکستان میں حراست میں رکھا گیا۔"

بازیاب کروایا جانے والا غیر ملکی خاندان
بازیاب کروایا جانے والا غیر ملکی خاندان

پاکستان کی وزات خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ اس جوڑے کو 2012ء میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا اور ان سے متعلق بعض اوقات سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ان کے اغواکار اپنے ٹھکانے افغانستان کے اندر ان علاقوں میں تبدیل کرتے رہتے تھے جہاں عسکریت پسند موجود تھے۔

اگرچہ پاکستان نے تاحال سی آئی اے کے سربراہ کے بیان پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے تاہم پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات باہمی تعاون کے لیے مفید نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر کا اس بارے میں جوموقف ہے اسی کو سرکاری موقف سمجھنا چاہیے کیونکہ انہیں کے پاس تمام حقائق تھے انہیں سے رابطہ کیا گیا جس کے بعد آپریشن ہوا۔

طلال چودھری نے مزید کہا کہ "(امریکہ کے) صدر سمیت دیگر عہدیداروں نے اس کی تعریف بھی کی۔ اب اگر ان کا ایک موقف سامنے آگیا ہے تو یہ ان کے پہلے اور نئےموقف میں تضاد کا مظہر ہے۔ میرا خیال ہے ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو متنازع بنانے کی بجائے تعاون کو بڑھانا چاہیے۔"

دفاعی امور کے تجزیہ کار اور فوج کے سابق بریگیڈئیر سعد محمد نے سی آئی اے کے سربراہ کے بیان کو پاکستان کے لیے ایک ایسا انتباہ قرار دیا جس سے ان کے بقول پاکستان پر اپنے ہاں موجود عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھانا مقصود ہو سکتا ہے۔

پومیپو کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے رواں ہفتے کہا تھا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔

پاکستان کا موقف رہا ہے کہ پاکستان نے عسکریت پسندوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہے اور پاکستان میں شدت پسندوں کی پناہ گاہیں موجود نہیں جو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG