رسائی کے لنکس

logo-print

پائلٹس کے جعلی لائسنسوں کا معاملہ، 'کلیئر ہو بھی گئے تو بھی لوگ شک کریں گے'


(فائل فوٹو)

"میں طویل پرواز کے بعد گھر لوٹ رہا تھا، گھر پہنچنے کا احساس مجھے خوش کر رہا تھا کہ اس ویک اینڈ پر کرونا کی وجہ سے بچوں کے ساتھ باہر تو نہیں جا سکتا لیکن اُن کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع میسر آئے گا۔"

"لیکن لینڈنگ کے بعد ایئر پورٹ سے باہر جاتے ہوئے میرے کئی ساتھی جن سے روزانہ خوشگوار ملاقاتیں ہوتی تھیں مجھے عجیب اور خالی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ایک انجانا پن ان کی نظروں میں تھا، اس وقت تو مجھے سمجھ نہیں آئی لیکن گھر آکر ٹی وی پر خبریں دیکھیں تو ان نظروں کا مطلب سمجھ آ گیا۔"

یہ الفاظ ہیں نوید احمد (فرضی نام) کے جو ایک غیر ملکی ایئرلائن میں چند روز پہلے تک بطور پائلٹ وابستہ تھے۔ بین الاقوامی ایئر لائن کا پائلٹ ہونا اُن کے لیے اعزاز کی بات تھی اور وہ خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔

لیکن پاکستان کے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے ایک بیان نے نوید سمیت ملکی اور غیر ملکی ایئر لائنز سے وابستہ پاکستانی پائلٹس اور تیکنیکی عملے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں کئی پائلٹس کے پاس جعلی لائسنس ہیں۔

اس بیان کے بعد پی آئی اے نے اپنے 100 سے زائد پائلٹ گراؤنڈ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ کئی غیر ملکی ایئر لائنز نے بھی پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا تھا۔

نوید کے بقول اُنہوں نے جب یہ بیان ٹی وی پر دیکھا تو اسی وقت احساس ہوگیا کہ کچھ برا ہونے جا رہا ہے۔ "میں نے سوچا کہ شاید یہ سیاسی بیانات میں سے ایک ہو اور اس کا اثر شاید ہم سب پر نہ ہو لیکن مجھے احساس ہوا کہ میں خود سے جھوٹ بول رہا ہوں۔"

نوید کہتے ہیں کہ "جب آپ اپنے 30 فی صد پائلٹس کے لائسنس جعلی کہہ دیں تو دنیا کو کیا پڑی ہے کہ وہ ہر ایک کی الگ سے تصدیق کراتے پھریں، اربوں روپے مالیت کے جہاز اور سیکڑوں انسانی جانوں کے لیے کوئی رسک نہیں لیتا اور نہ ہی لینا چاہیے۔ لہذا مجھے میرے لائسنس کی باضابطہ تصدیق کے نام پر گھر بٹھا دیا گیا ہے اور فی الحال فلائنگ پر پابندی ہے۔"

نوید کا کہنا تھا کہ ملازمت کے دوران فلائنگ بند ہوجانے کا مجھے اتنا دکھ نہیں بلکہ دکھ ان نظروں اور رویوں کا ہے جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نوید کہتے ہیں کہ "میں نے پوری ایمانداری کے ساتھ تعلیم کے بعد فلائنگ سیکھی اور لائسنس کے لیے جتنا بھی مشکل امتحان ہو اس کی مکمل تیاری کے بعد لائسنس لیا اس کی ہر چھ ماہ بعد تجدید ہوتی ہے۔ لیکن ایک بیان کی وجہ سے ہمیں مشکوک بنا دیا گیا ہے۔"

نوید کہتے ہیں کہ "میرے ساتھی غیر ملکی پائلٹس اور ایئرلائن کے افسران مجھ پر یوں شک کر رہے ہیں جیسے مجھے جہاز اڑانا آتا ہی نہیں اور میں اندازے سے جہاز اڑا رہا تھا۔ یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کہ میری زندگی بھر کی محنت اور کامیابی کو لمحوں میں ضائع کر دیا گیا۔"

اُن کا کہنا ہے کہ میری خوشحال زندگی پر رشتہ دار بھی اب طنز کر رہے ہیں کہ دیکھا سچ سامنے آ گیا۔ سمجھ نہیں آتا کہ کس طرح اپنی بے گناہی ثابت کروں۔

اس سوال پر کہ آپ نے اپنے لائسنس کی تجدید کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے رابطہ کیا؟ نویدکا کہنا تھا کہ "میرا لائسنس چھ ماہ کے لیے تھا اور ابھی اسے ختم ہونے میں دو ماہ باقی تھے، میرے کسی کو کچھ کہنے کی نوبت ہی نہیں آئی اور میری ایئر لائن نے مجھے فلائنگ سے روکتے ہوئے پاکستانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو میرے لائسنس کے بارے میں پوچھا ہے۔ وہاں سے جواب آنے کے بعد ہی کچھ پتا چلے گا۔"

نوید کے بقول "مجھے اپنے دیے گئے امتحانات اور اپنی ڈگریوں کا پتا ہے کہ وہ سب اصلی ہیں لہذا کل کو مجھے فلائنگ کی اجازت مل جائے گی لیکن مجھ پر اعتماد کرنے والوں کا جو اعتماد مجروح ہوا ہے وہ کب بحال ہوگا میں نہیں جانتا۔"

پاکستان میں وزیر ہوابازی غلام سرور خان کے بیان کے بعد یورپی یونین نے 32 ممالک کی ایئر لائنز کو لکھا ہے کہ وہ پاکستانی پائلٹس کو پرواز کرنے سے روک دیں۔ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے اپنے 32 رکن ممالک کو تجویز دی ہے کہ وہ پاکستانی لائسنس پر کام کرنے والے پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیں۔

ہدایت نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹ کام کر رہا ہے تو اس حوالے سے ممکنہ اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ فی الحال پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹ کو فلائٹ آپریشن میں کام کرنے سے روکا جائے۔ ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے اپنے تمام رکن ممالک سے پاکستانی پائلٹس کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

غلام سرور خان کے بیان کے بعد یورپی یونین نے چھ ماہ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں پر پہلے ہی پابندی عائد کردی ہے۔

'پی آئی اے نئی ایئر لائن بن کر اُبھرے گی'

چند روز قبل پاکستان کی قومی اسمبلی میں یورپی یونین کی پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا کہ یہ آپریشن یورپ سے پہلی بار معطل نہیں ہوا۔ یورپی ایوی ایشن کی جانب سے 2008ء میں بھی آپریشن معطل ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں اصلاحات کریں گے تو اس کی نیک نامی ہو گی جن لوگوں نے جعلی لائسنسوں کی سرپرستی کی ان کے خلاف کریمنل مقدمات درج ہوں گے۔ اصلاحات کے بعد پی آئی اے ایک نئی ایئر لائن بن کر اُبھرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور جلد اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی۔

جعلی لائسنسوں اور جعلی ڈگریوں کے معاملے پر غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اعتراض کرنے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں، ہم تو ان کا گند صاف کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو تسلیم کرنا چاہیے کہ 658 لوگ ان کے دور میں جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہوئے۔ یہ سارا کچھ 2010ء سے لے کر 2018ء تک ہوا۔ ہم ان کو نکالیں گے جو سفارش کے ذریعے آئے۔ سابق حکومت میں پیسے لے کر لائسنس کی تجدید کی جاتی تھی لیکن اب ہماری حکومت میں ایسا نہیں ہو گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ 26 پائلٹس نے غلط امتحانات دیے جنہیں گراؤنڈ کر دیا گیا ہے جب کہ 34 پائلٹس کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔

غلام سرورخان کا کہنا تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں دیے گئے اپنے پہلے بیان پر قائم ہیں۔

وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں 262 پائلٹس کے لائسنس جعلی ہونے کا کہا تھا لیکن اس فہرست میں وہ پائلٹس بھی شامل تھے جو ایئر لائن چھوڑ چکے یا ریٹائر ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ 2016 میں حویلیاں حادثہ میں ہلاک ہونے والے پائلٹ اور معاون پائلٹ کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔

نوید کو گلہ ہے کہ 30 فی صد پائلٹس کے جعلی لائسنس کہہ کر اب تک 28 پائلٹس کو نکالا گیا ہے اور 20 سے 30 مزید ہیں جن کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے لیکن پی آئی اے کے اپنے 70 فی صد اور دنیا بھر میں کام کرنے والے سیکڑوں پائلٹس اور انجینئرز کو مشکوک کردیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ہم سب بے شک کلئیر بھی ہوجائیں لیکن ہم پر اعتماد کرنے والے شاید ہم پر مکمل اعتماد کبھی دوبارہ نہ کر سکیں۔ پاکستانی پائلٹس کو ہمیشہ پروفیشنل پائلٹس کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن اب ہم سب جعلی لائسنس والے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG