رسائی کے لنکس

logo-print

شاہد خاقان 'ایئر بلیو' کے سربراہ کی حیثیت میں سپریم کورٹ طلب


عدالت نے شاہین، ایئر بلیو، سیرین ائیر لائنز کے سی ای اوز کو 12 مئی کو کراچی طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔

سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت پاکستان کی تین ایئرلائنز کے سربراہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں 12 مئی کو کراچی رجسٹری میں طلب کرلیا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کو وزیرِ اعظم کی حیثیت میں نہیں بلکہ نجی ایئرلائن 'ایئر بلیو' کے چیف ایگزیکٹو افسر کی حثیت سے طلب کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے وکلا کی جعلی ڈگریوں پر بھی از خود نوٹس لے لیا ہے۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں پائلٹس کی مبینہ جعلی ڈگریوں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایئر بلیو نے ابھی تک ڈیٹا کیوں نہیں دیا؟ ایئر بلیو کے مالک کون ہیں؟ ایئر بلیو کے چیف ایگزیکٹو آ کر بتائیں کہ ان کے کتنے ملازمین کی جعلی ڈگریاں ہیں؟

اس پر ڈائریکٹر سول ایوی ایشن نے عدالت کو بتایا کہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی ایئر بلیو کے سی ای او ہیں۔

ڈائریکٹر سول ایوی ایشن ناصر علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی اے، ایئر بلو، شاہین اور سیرین ایئر لائنز کی جانب سے پائلٹس کی ڈگریوں سے متعلق رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے میں 1972 افراد کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل مکمل کیا گیا۔ اس ایئرلائن میں 24 پائلٹ جعلی ڈگریوں پر کام کر رہے ہیں جن میں سے 12 پائلٹس نے حکمِ امتناع لیا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایئر بلیو کے سربراہ کو بطور وزیرِ اعظم نہیں بلکہ بطور سی ای او بلا لیتے ہیں۔ مفادات کا ٹکراوٴ اپنی جگہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ چار ماہ سے زیرِ التوا ہے اور رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔

عدالت نے شاہین، ایئر بلیو، سیرین ائیر لائنز کے سی ای اوز کو 12 مئی کو کراچی طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نے وکلا کی جعلی ڈگریوں پر بھی از خود نوٹس لیتے ہوئے تمام بار کونسلز سے جواب طلب کر لیا۔

سپریم کورٹ نے تمام بار کونسلز کو ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اس معاملے میں بار کونسلز کے ساتھ تعاون کرے۔ کئی وکلاء نے قانون کی ڈگری کے بغیر لائسنس حاصل کیے۔ بعض افراد بغیر لائسنس کے ہی وکیل بنے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول میں جان گیا ہوں کہ بار سے مطلوبہ تعاون نہیں مل رہا۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے سینئر وکیل حامد خان سے کہا کہ دیکھیں کتنے وکیل جعلی ڈگریوں پر چل رہے ہیں۔ کیا وکلا کی ڈگریوں کی تصدیق نہیں ہونی چاہیے؟ اس پر حامد خان نے کہا کہ وکلا کی ڈگریوں کی بھی تصدیق ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پھر 184 تین کی درخواست دینا چاہیے تھی۔ حامد خان نے کہا کہ ہم درخواست دے دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج یہ درخواست دائر کریں، ہم نوٹس جاری کر دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG