رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: دیسی ٹوٹکے، دعائیں اور مدافعتی نظام


Coronavirus in Pakistan

دنیا بھر میں لوگوں کی نظریں ان تجربہ گاہوں پر ہیں جہاں طبی ماہرین کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ویکسین اور ادویات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ روز امریکہ میں انسانوں پر نئی بنائی گئی ویکسین کا تجربہ ہوا، لیکن مبصرین کے مطابق نتائج آنے میں وقت لگے گا۔

دوسری طرف، سوشل میڈیا پر پاکستان میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو نت نئے ٹوٹکوں کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ کسی کے خیال میں لیموں پانی میں کرونا کے خلاف اچھی مدافعت ہے۔

بعض کے خیال میں کینوں یا دیگر سٹرس فروٹس اچھے رہیں گے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ شہد ملا پانی پیا جائے تو کرونا کچھ نہیں کہے گا۔ کسی کا فرمانا ہے کہ پانی کے اندر ہلدی اور دار چینی ملا کر پی جائے اور کوئی جوشاندے کو روزانہ کا معمول بنانے کی تلقین کر رہا ہے۔

اس سارے پس منظر میں ہم نے شعبہ طب سے وابستہ ایسے احباب سے بات کی ہے جو سوشل میڈیا بذات خود بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ آخر ان ٹوٹکوں سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر سہیل چیمہ نیویارک میں مقیم پریکٹیشنر ہیں فیس بک اور مقامی ٹیلی ویژن چینلز پر کرونا کے موضوع پر تفصیل سے معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سہیل کہتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں دیسی ٹوٹکے زندگی کا حصہ رہے ہیں اگر کسی کو ان چیزوں پر بھروسا ہے تو ضرور استعمال کریں۔ لیکن، بیماری کے لیے مخصوص ادویات موجود ہوں تو وہی استعمال کی جائیں۔ صرف دیسی ٹوٹکوں پر بیٹھ جانا معمولی سی بیماری کو گھمبیر مسئلہ بنا سکتا ہے۔ اور اسے بڑی بیماری میں تبدیل کر سکتا ہے۔

نزلہ زکام کی ہی بات کریں تو ڈاکٹر چیمہ کے مطابق، لوگ عام طور پر اس کے لیے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے۔ لیکن، یہی چیز بڑھ کر سائنس میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس سے پورے جسم میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔ اب تک جو علامات اور نتائج سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق، 80 سے 90 فیصد مریض خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لیکن، اگر کرونا وائرس شدت اختیار کرے تو پھیپھڑے سکڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے سانس لینے میں سخت دشواری ہوتی ہے اور مریض وینٹی لیٹر پر چلا جاتا ہے۔

لیکن، ڈاکٹر سہیل چیمہ بھی سٹرس فروٹ کو انسان کے مدافعتی نظام کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سٹرس فروٹ میں وٹامن سی ہوتا ہے اور ان کے کھانے میں مذائقہ نہیں۔ لیکن، اگر بیماری ہوجائے تو پھر علاج کرانا ہے اس وقت وٹامن سی یا سٹرس فروٹ سے فرق نہیں پڑے گا۔

ڈاکٹر عبدالکریم راجپر پاکستان میں طویل عرصے تک پریکٹس کرتے رہے رہیں اور آجکل میڈیا کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ وہ دو ٹیلی ویژن چینلز اور ایک اخبار کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ہے متحرک ہیں۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہتے ہیں کہ یہ ٹوٹکے بالخصوص جن میں وٹامن سی ہو جیسے اورنجز وغیرہ، یہ مددگار تو ہیں لیکن بیماری میں مخصوص ادویات پر ہی بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اگر آپ باقاعدہ علاج نہیں کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا کہ یہ ٹوٹکے آپ کو بچا سکیں گے۔ اگر لوگوں کو بتایا جائے کہ ٹوٹکے بھی کارگر ہیں تو وہ صرف ٹوٹکوں پر ہی اکتفا کریں گے اور علاج کے لئے نہیں جائیں گے۔ ڈاکٹر راجپر کے بقول یہ ضرور ہے کہ اچھا صاف ستھرا کھانا کھانا چاہیے۔ یہ انسان کو اس کے مدافعتی نظام کو مضبوط رکھتا ہے۔

کرونا وائرس پر سوشل میڈیا پر جاری بحث کے پس منظر میں ڈاکٹر عبدالکریم راجپر کہتے ہیں کہ جو لوگ آسمانوں کی طرف دیکھتے رہے ہیں، ڈر ہے کہ کہیں ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین نہ نکل جائے۔

ڈاکٹر بلال پراچہ آئی اینڈ آر فزیشن ہیں اور مسلمانوں کی تنظیم اکنا ریلیف کے ساتھ بطور رضاکار وابستہ ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنے پبلک سروس پیغام میں نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن، امریکہ کے ممتاز ماہر متعدی امراض ڈاکٹر اینتھونی فاوچی اور جنرل آف نیشنل سائنس ریویو کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کرونا کو دو قسموں میں شناخت کیا گیا ہے کرونا ایل اور کرونا ایس۔

انھوں نے بتایا کہ کرونا ایل جو ہلاکت خیز تھا اس کا زور ٹوٹ رہا ہے اور کرونا ایس اس وقت جو زیادہ پھیل رہا ہے وہ زیادہ نقصان دہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر بلال نے تجویز کیا ہے کہ ایک صحت مند طرز زندگی، اچھی خوراک، اچھی طرح سے ہاتھ دھونا، سگریٹ نوشی سے پرہیز یہ سب سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس کا جو بھی عقیدہ ہو اسی کے مطابق دعائیں بھی، ''مدافعتی نظام پر مثبت اثر ڈالتی ہیں''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG