رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس عمر نہیں دیکھتا!


فائل فوٹو

امریکہ کے اعلیٰ حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ ہفتہ کرونا وائرس کے حوالے سے بہت خطرناک ہے کیونکہ اس ہفتے کے دوران سب سے زیادہ اموات کا خدشہ ہے۔

نیویارک میں اتوار کو پہلی بار گزشتہ روز کے مقابلے میں اموات کم ہوئی ہیں لیکن ابھی بھی یہ تعداد 600 سے زائد ہے اور 7300 نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔

سرکاری طور پر امریکہ میں 10335 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ وائس آف امریکہ نے بفلو، نیویارک میں متعدد اسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں فرائض انجام دینے والی بزرگ افراد کے امراض کی ماہر ڈاکٹر رفعت صادق سے تازہ ترین صورت حال کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے بتایا، ’’ وہ بفلو میں کام کرتی ہیں اور نیو یارک کے مرکزی علاقے کے بعد اب بفلو جیسے مضافاتی مقام میں بھی کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور بڑی تعداد میں مریض ان کے پاس آ رہے ہیں‘‘۔

کرونا وائرس عمر نہیں دیکھتا
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:57 0:00

ہمارے اس سوال کے جواب میں کہ لاک ڈاون اور سماجی فاصلے کے قواعد کے باوجود کیسز کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے، ڈاکٹر رفعت نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ابھی تک لوگ کرونا وائرس کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے ہر اسپتال اور نرسنگ ہوم میں طبی عملے کو بھی سختی سے قواعد کی پاسداری کی ہدایت کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران بھی ماسک کے استعمال پر سختی سے عمل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اب اموات اور متاثر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے امید ہے کہ لوگ کرونا وائرس سے بچنے کے لئے جاری ہدایات کی سختی سے پابندی کریں گے۔

نرسنگ ہومز میں رہنے والے افراد میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی صحت یابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ذیابیطس، سرطان اور اسی نوعیت کے دوسرے امراض والے معمر افراد میں وائرس کی وجہ سے پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے‘‘۔

انہوں نے اٹلی میں صحت مند ہونے والی 102 سالہ خاتون کی مکمل صحت یابی کا بھی حوالہ دیا۔ معمر افراد میں تنہائی اور اکیلے پن کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ اور ڈیپریشن پر بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ صرف نرسنگ ہومز میں رہنے والے ہی اس کا شکار نہیں ہوتے بلکہ ان کے پاس آنے والے زیادہ مریضوں میں یہ علامتیں ملتی ہیں اور ان پر قابو پانے کے لئے وہ ویڈیو کالز کے ذریعے رابطے میں رہنے کی ہدایت کرتی ہیں اور مریضوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ انہیں یقین دلاتی ہیں کہ ان کو دی جانے والی ادویات کی مدد سے وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر رفعت صادق نے ماسک کی ری سائیکلنگ کی بھی بات کی اور ہمارے سوال پر وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ نیویارک میں ایسے بہت سے ٹرک موجود ہیں جہاں آپ ماسک کو اسی طرح سیناٹرائز کر سکتے ہیں جیسے باقی طبی آلات کو استعمال کے بعد سیناٹرائز کر لیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر رفعت نے کہا کہ وہ وائس آف امریکہ کے تمام سننے والوں کو اپنے پیغام میں کہنا چاہتی ہیں کہ وہ نہ صرف خود کو محفوظ رکھیں بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کا تحفظ بھی کریں۔

اگر انہیں کھانسی ہے تو وہ احتیاط کے طور پر خود کو اپنے گھر والوں سے بھی علیحدہ رکھیں۔ اپنے مدافعتی نظام کو بہتر بنائیں۔ غذائیت والی خوراک کھائیں اور اس کے ساتھ ساتھ حفظان صحت کا خیال رکھیں تو اس دشوار وقت سے بخوبی نکل جائیں گے۔

واضح رہے کہ نیویارک میں پیر کے روز تک مرنے والوں کی تعداد 4159 ہو چکی ہے اور تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشئس ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کہتے ہیں کہ آئندہ کچھ ہفتے اہم ہیں اور ان کے دوران سماجی دوری اور لوگوں کو گھروں کے اندر ہی رہنے کے قواعد پر عمل کرنا ہو گا تاکہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تشکیل کردہ کرونا ٹاسک فورس کے رکن بھی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG