رسائی کے لنکس

logo-print

چین میں کرونا وائرس کی نئی لہر ابھرنے کا خطرہ


وائرس کا زور ٹوٹنے کے بعد چین کے صنعتی شعبے کی سرگرمیاں شروع ہو گئیں ہیں، تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

چین نے پیر کے روز اپنی سرحدوں پر نقل و حمل کے حوالے سے سخت اقدامات کئے ہیں، کیونکہ وہاں کرونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد میں ایک دم تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد بڑھ کر 951 ہو گئی ہے۔

ان میں زیادہ تر تعداد ان چینی باشندوں کی ہے جو غیر ممالک سے چین آئے ہیں۔ ایسے مریض بھی ہیں جن میں کرونا وائرس جیسی علامات نہیں پائی گئیں۔ اس کے بعد چین میں کرونا وائرس کی نئی لہر ابھرنے کے خدشے میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم بیجنگ سے محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے متنبہ کیا ہے کہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کرونا وائرس وبا کے خلاف کئے گئے اقدامات طویل عرصے تک نافذ العمل رہنے کا امکان ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمشن کے ترجمان نے پیر کے روز میڈیا کو بتایا کہ اتوار تک کرونا وائرس کے 951 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ چینی شہری ہیں جو مختلف ممالک میں تھے اور جنہیں واپس لانے کیلئے چین نے خصوصی پروازوں کا اہتمام کیا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ باہر سے آنے والے افراد جن میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ان میں زیادہ تر ہمسایہ ممالک سے آئے ہیں، اور ان کی وجہ سے چین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

فی الحال تو چین نے غیر ملکیوں کے چین میں داخلے پر پابندی عائد کی ہوئی اور صرف ان چینی شہریوں کو واپس آنے دیا جا رہا ہے جو دوسرے ممالک میں مقیم تھے۔

چین میں ایک دن میں 38 نئے مریض سامنے آئے، جو سارے باہر سے آئے تھے۔ ان سے ہٹ کر صرف ایک نیا مریض تھا جو کہ چین سے باہر نہیں گیا تھا۔ ان میں ایسے مریض بھی ہیں جن میں کرونا وائرس کی علامات نہیں ہیں۔

کمشن کا کہنا تھا کہ مقامی مریض کا تعلق صوبے گواینگ ڈونگ سے ہے جو کہ بڑا صنعتی مرکز ہے۔

ہفتے کے روز پانچ نئے مقامی مریض سامنے آئے تھے، جب کہ چین نے دو ماہ تک تمام سرگرمیاں محدود رکھنے کے بعد اب انہیں پوری رفتار سے بحال کر دیا ہے۔

اتوار کے روز 78 ایسے مریضوں کا انکشاف ہوا جن میں کرونا وائرس کی کوئی علامت نہیں تھی۔ پہلے سے ہی 1047 ایسے مریض ہیں جن میں علامات تو موجود نہیں ہیں لیکن ان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ انہیں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

اتوار کے روز ہی، صوبہ ہوبے میں، جہاں سے وبا پھیلنی شروع ہوئی، وائرس سے ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، اور یوں اس وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 3331 ہو گئی ہے۔

کمشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کا شکار باہر سے آنے والوں اور مقامی طور پر تشخیص ہوئے مریضوں کیلئے چین کی مجموعی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG