رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کا بحران اور امریکی کاشتکاروں کے خدشات


کیلی فورنیا کے ایک زرعی فارم میں کام کرنے والا الفارو فصل کو دیکھ رہا ہے۔ امریکہ کی زرعی اجناس کا سب سے بڑا خریدار چین ہے۔ 19 مارچ 2020

کرونا وائرس کے نتیجے میں دنیا بھر میں نہ صرف انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں بلکہ ایک اقتصادی بحران بھی برپا ہو گیا ہے اور خیال ہے کہ اس سے عالمی معیشت کو اربوں کھربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

اس بحران سے روزمرہ کے معمولات کے علاوہ عام کاروبار، تجارت، درآمد و برآمد اور پیدوار، سب ہی شعبے متاثر ہوتے نظر آتے ہیں۔ جس میں اہم پیداواری شعبہ زراعت بھی شامل ہے۔ اس کے اثرات یہاں امریکہ میں بھی کاشت کار محسوس کر رہے ہیں۔ انہیں یہ فکر خاص طور پر لاحق ہے کہ کاشتکاری کا سیزن آچکا ہے لیکن اس پر کرونا وائرس کے نتیجے میں گویا دھند چھائی ہوئی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بحران کی کیفیت نے بیرون ملک ان کی فصلوں کی کھپت کے سلسلے میں انتہائی بے یقینی پیدا کردی ہے۔

چین کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ امریکی زرعی پیدوار کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اگرچہ فی الوقت چین میں غلے کے اسٹاک کم ہیں، لیکن پھر بھی یہ امکان دکھائی نہیں دے رہا کہ چین کی جانب سے امریکی مال کی خریداری میں کوئی اضافہ ہو گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ اہم تجارتی مذاکرات کے بعد اس ضمن میں معاہدے بھی طے پا چکے ہیں۔

ادھر کرونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر کے پس منظر میں کاشت کار کہتے ہیں کہ انھیں اس کی زیادہ فکر نہیں اس لیے کہ بقول ان کے ہم ایک خاندان کی مانند زندگی گزارتے ہیں اور ہمیں ایک خاص دائرے سے باہر میل ملاپ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

ان ہی کاشتکاروں میں الی نوائے کے ایک کاشت کار اسکاوٹ بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں تک اس عالمی وبا کا تعلق ہے، ہمیں پریشانی نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہمیں احتیاط کرنی ہے اور میل جول کو محدود کرنا ہے، لیکن ہمیں کاشت کاری تو بہر حال کرنی ہی ہے۔ بوائی کا وقت قریب ہے اور مال مویشی کے علاوہ ہمیں کھیتی باڑی کی مصروفیات بھی جاری رکھنی پڑ رہی ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرونا وائرس کی وبا اور اس کے خوف نے ان کاشت کاروں کی بہت سی امیدوں کو گہنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ معاہدے کے پہلے مرحلے میں وہ امید باندھے ہوئے تھے کہ چین کی جانب سے درآمدات میں اضافے کے بعد ان کی آمدن میں اضافہ ہو گا اور مثال کے طور پر وہ بہت بڑی مقدار میں سویابین برآمد کر سکیں گے۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب کرونا وائرس حملہ آور نہیں ہوا تھا۔ لیکن اب امریکی کاشتکار افسردہ دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی آرزوئیں خاک میں ملتی نظر آرہی ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار کین فاراواو نے اپنی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ امریکہ کے محکمہ زراعت پہلے ہی یہ اطلاع دے چکا ہے کہ مارچ کے دوسرے ہفتے میں چین کو امریکہ سے سویابین کی کوئی برآمد نہیں کی گئی۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ چین اپنی مانگ برازیل اور ارجنٹائن سے پوری کر رہا ہے۔ فی الوقت تو ایسا ہی ہے اور ماہرین کے مطابق آئندہ کے حالات کا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

دوسری جانب اجناس کی قیمتیں بھی تیزی سے گرتی جا رہی ہیں۔ ایک زرعی ماہر جوکیمپ اس تمام صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وبا امریکی کاشت کاروں کے لئے تیزی کے ساتھ ان کے اقتصادی منظر نامے پر اثر انداز ہوتی نظر آتی ہے۔ کساد بازاری کا خطرہ الگ منڈلا رہا ہے اور غلے کی منڈیوں میں دوسرے منفی اشارے بھی مل رہے ہیں اور یہ محض مانگ اور رسد کی بات نہیں ہے۔

یہ تمام عوامل امریکی کاشت کاروں کے لئے گہری تشویش کا سبب بن رہے ہیں جب کہ ابھی ان میں سے بیشتر نے ایک بیج بھی کھیتوں میں نہیں ڈالا۔ ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کی عالمی وبا کے معاشی اثرات نے یقیناً انھیں سنگین بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت میں ڈال دیا ہے اور وہ خود کو حالات کے رحم و کرم پر محسوس کر رہے ہیں۔ انھیں نہیں پتہ کہ کرونا وائرس کا سنگین عالمی بحران آخر انہیں کہاں لے جائے گا؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG