رسائی کے لنکس

'آج کراچی کا منظر وہی تھا جو برسوں پہلے ہڑتالوں میں دکھائی دیتا تھا'


کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کا ایک منظر، 23 مارچ 2020

عطیہ ناز کی ڈاکٹر سے ریگولر چیک اپ کی تاریخ 24 مارچ ہے اور انھیں آج صبح اسپتال سے یہ ٹیکسٹ موصول ہوا کہ اسپتال ریگولر چیک اپ کی نئی تاریخ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد جاری کرے گا۔ عطیہ نے اپنی بیماری کی تمام ضروری ادویات پہلے سے ہی لے کر گھر میں رکھ لی ہیں لیکن انہیں یہ فکر بھی ہے کہ پندرہ روز کے بعد کیا ہو گا۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سندھ میں رپورٹ ہو رہے ہیں اور اسی وجہ سے سندھ حکومت نے کراچی سمیت سندھ بھر میں 15 دن کے لئے لاک ڈاون کرنے کا فیصلہ کیا۔ لاک ڈاون کا اطلاق 23 مارچ کی نصف شب ہوا، جس کے بعد شہر بھر کی سڑکوں پر پولیس کی اضافی نفری نے شہریوں کو اس پر عمل در آمد کرانا شروع کر دیا۔

لاک ڈاون کے پہلے روز شہر بھر کی صورت حال کیا رہی اس کی رپورٹنگ کی غرض سے جب باہر نکلنا ہوا تو پہلی دشواری کریم سروس کی بندش سے ہوئی۔ جن کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ حالات کے پیش نظر وہ اپنی سروس معطل کر رہے ہیں۔

کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن، سڑکوں پر سناٹا
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:39 0:00

رہائشی سوسائٹی سے باہر نکلنے کے لئے پیدل چلنا مناسب سمجھا۔ واک کے دوران احساس ہوا کہ شہری گھروں میں محصور ہیں۔ مرکزی گیٹ پر کھڑے سیکیورٹی گارڈز نے گیٹ کو بند کر رکھا تھا۔ میں اپنے کیمرہ مین کے ہمراہ شہر کا جائزہ لینے کے لئے نکلی تو پولیس نے دو جگہ ہمیں روک کر پوچھ گچھ کی اور مقصد جاننے اور شناخت کے بعد آگے جانے کی اجازت دی۔

کئی سڑکوں پر پولیس نے رکاوٹیں بھی کھڑی کر رکھی تھیں جب کہ موبائل کے ساتھ پولیس اہل کار بھی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کو روک کر جانچ پڑتال کرنے میں مصروف دکھائی دئیے۔ دو سے تین کریانے کی دکانیں ضرور کھلی ہوئیں تھیں، لیکن اس سفر کے دوران ہمیں کہیں بھی کوئی بڑی دکان یا مارکیٹ کھلی نظر نہ آئی۔

لاک ڈاون میں ہر قسم کے کاروباری مراکز، مارکیٹس، مالز، شادی ہالز، کلب، سینما گھر بند رکھنے کے سخت احکامات ہیں، جب کہ سیاسی اور مذہبی اجتماعات پر بھی پابند عائد ہے۔ لیکن اسپتال، راشن کی دکانیں، دودھ، سبزی، گوشت کی دکانوں سمیت، پیٹرول پمپ، واٹر ہائیڈرینٹس، ایمبولینس سروسز اپنا کام جاری رکھ سکیں گی۔

لاک ڈاؤن کے باعث شہر کی سڑکیں سنسان ہیں۔
لاک ڈاؤن کے باعث شہر کی سڑکیں سنسان ہیں۔

شہریوں کی نقل و حرکت بھی کسی ضروری کام کی تحت جاری رہ سکتی ہے۔ جگہ جگہ پولیس کے ناکوں پر سے گزرنے والوں سے شناختی کارڈ مانگا جا رہا ہے اور دفتر جانے والوں سے ان کا آفس کارڈ بھی دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ پولیس نے دو ایسی گاڑیوں کو روکا جس میں ڈرائیور کے علاوہ تین افراد سوار تھے، لیکن وہ اسپتال جا رہے تھے اور اس میں ایک عمر رسیدہ بیمار خاتون بھی تھیں۔ پولیس نے انہیں فوری جانے دیا جب کہ دوسری گاڑی میں بھی ڈرائیور کے ساتھ ایک عمر رسیدہ شخص کو اسپتال جانے کی اجازت مل گئی۔

میونسپل سروسز کے لوگوں کو جانے کی اجازت دی جا رہی تھی تاہم کچھ نوجوان جو اپنی آمد و رفت کی درست وجہ بتانے سے قاصر تھے انھیں واپس جانے کے لیے کہا گیا۔

پولیس وقتاً فوقتاً لاوڈ اسپیکر کے ذریعے یہ اعلانات بھی کرتی سنائی دی کہ لوگ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ شاید اسی سختی کے پیش نظر آج شہر کا منظر وہی تھا جو کئی برس پہلے ہڑتالوں میں دکھائی دیتا تھا۔ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بالکل نظر نہیں آئی۔ گلیاں، محلے سناٹے کا منظر پیش کر رہے تھے۔ مارکیٹس مکمل طور پر بند تھیں تاہم ان بند دکانوں کے باہر پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ ڈیوٹی دیتے دکھائی دئیے۔

پولیس لاک ڈاؤن کے دوران سڑکوں پر آنے والوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
پولیس لاک ڈاؤن کے دوران سڑکوں پر آنے والوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

لاک ڈاون کے بارے میں لوگوں کی مختلف آراء بھی سامنے آ رہی ہیں، ضلع وسطی کی رہائشی سیما کے نزدیک یہ اقدام مؤثر ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔ ایسے مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دینا سب شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل لاک ڈاون کے اعلان سے قبل ہی انھوں نے اپنے گھر میں مہینے بھر کا راشن رکھ لیا تھا۔ لیکن انھیں صرف یہ تشویش ہے کہ ان کی والدہ کی طبیعت اگر اس دوران خراب ہوئی تو انھیں اسپتال پہنچانے میں مشکل کا سامنا نہ ہو۔

مسز صائمہ اس ساری صورت حال سے پریشان ہیں۔ ان کے شوہر ملازمت کے سلسلے میں اسپین میں مقیم ہیں اور خیریت سے ہیں۔ صائمہ سمجھتی ہیں کہ لاک ڈاون صرف صوبے میں ہی نہیں، بلکہ ملک بھر میں ہونا چائیے کیونکہ پاکستان اس وبا کے سبب بڑے نقصان کو جھیلنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

لاک ڈاؤن کا ایک اور منظر
لاک ڈاؤن کا ایک اور منظر

شہریار بزنس کرتے ہیں اور ان دنوں گھر پر اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کا فیصلہ بالکل درست ہے اور جو شہری اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے انھیں دوسرے ممالک کا حال دیکھ کر سوچنا چائیے کہ اس وقت گھر میں بند رہنا ہی خود کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔ انھیں یقین ہے کہ اگر ان پندرہ روز میں سرکار کی جانب سے دیے گئے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کر لیا گیا تو اس وبا پر قابو پانا قدرے آسان ہو سکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG