رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا سے بچاؤ یا شہری آزادیوں کا دفاع؟


اسٹیچو آف لبرٹی (فائل)

کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں روز مرہ زندگی کے معمولات انتہائی متاثر ہوئے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے کو تبدیلی کا سامنا ہے۔ لیکن، زندگی بہت مضبوط اور فعال ہے اور آگے بڑھنے کی راہیں تلاش کر لیتی ہے اور بڑے سے بڑا دھچکہ بھی اس کو روک نہیں سکتا۔

آج بڑے ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں پر زور دیا جاتا ہے وہاں کرونا وائرس کی وجہ سے انہیں آزادیوں پر ضرب پڑی ہے اور روز مرہ زندگی اپنے مخصوص انداز سے ہٹ گئی ہے۔

سوچیے پچھلے دو ہفتوں کے دوران معمولات کیسے بدلے ہیں۔ نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا بھر کے بیشتر ملکوں میں مساجد، گرجا گھر اور سائناگاگ عبادت گزاروں کے لئے بند ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں ہزاروں چھوٹے کاروبار بھی مجبوراً بند کرنے پڑے ہیں۔ ہمیں ہی دیکھ لیجئے وائس آف امریکہ کی نشریات ہم غیر معمولی حالات میں آپ تک پہنچا رہے ہیں اور متعدد حدود کے باوجود اس رابطے کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔

اندازہ کیجیے کہ امریکہ میں جہاں آئین مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کی ضمانت دیتا ہے وہاں عدالتیں مقدمات کو موخر کر رہی ہیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ قیدیوں کے اہل خانہ اور وکلا بھی ریاست اور وفاق کی جیلوں میں ملاقات کے لئے نہیں جا سکتے۔ اسی نوعیت کی کچھ اور پابندیاں آزادانہ نقل و حرکت کو بھی حدود و قیود کی پابند کر رہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس نوعیت کی پابندیاں کیا امریکی آئین میں بیان کی جانے والی شہری آزادیوں کی خلاف ورزی ہیں یا انسانی حقوق سے متصادم؟

امریکہ کی ریاست واشنگٹن کی سیاٹل یونیورسٹی اسکول آف لا سے وابستہ ڈاکٹر طیب محمود نے ہمارے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا، ''خصوصی حالات میں مخصوص رد عمل اپنانا پڑتا ہے اور یہ بات قابل فہم ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کچھ شہری آزادیوں کو محدود کرنا ضروری ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ہمیں چوکس رہنے کی ضرورت ہے کہ کرونا وائرس کی آڑ میں مخصوص سیاسی ایجنڈے کو آگے نہ بڑھایا جائے۔‘‘

اس کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر طیب محمود نے کہا: ’’بعض ریاستوں میں اعلان کیا گیا ہے کہ ساقط حمل ایک غیر ضروری پروسیجر ہے جو فوری طور پر درکار نہیں۔ اس لئے دوسرے فوری اور ضروری پروسیجر کے لئے اس سے انکار کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ماہرین کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر پھیلنے والی وباؤں سے بچنے کے لئے شہری آزادیوں پر پابندیاں بعض اوقات برداشت سے زائد ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ وسیع پیمانے پر لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ ہر ملک کی صورتحال مختلف ہے اور وہ اپنی روایات اور اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔ اس لئے یہ بات غیر ضروری ہے کہ ہم مخصوص اقدامات کےلئے دوسرے ملکوں کی مثالیں دیں اور مطالبات کریں۔ ہر ملک کے تقاضے اور ضروریات مختلف ہیں اور ان کو سامنے رکھتے ہوئے ہی عوام کی بھلائی کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ آج اختیار کی جانے والی احتیاط آپ کی زندگی کے حق کا تحفظ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG