رسائی کے لنکس

کرونا وائرس: افریقی ممالک میں مقامی طور پر وینٹی لیٹرز اور طبی آلات کی تیاری


کینیا کے انجینئرز نے کم لاگت وینٹی لیٹرز تیار کیے ہیں۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جہاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایجادات کا سلسلہ جاری ہے۔ وہیں افریقی ممالک میں بھی سائنس دان اور انجینئرز وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔

افریقی ممالک میں اگرچہ وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کم ہے لیکن بعض ملکوں کے اسپتالوں میں رش اور ڈاکٹرز کے پاس حفاظتی آلات نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

انہیں شکایات کے پیشِ نظر کینیا کے دارالحکومت نیروبی کی ٹیکنالوجی کمپنی نے تھری ڈی فیس شیلڈ کا ڈیزائن متعارف کرایا ہے۔ اسے پلاسٹک کی چادر سے جوڑ کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ حفاظتی شیلڈ نیروبی کی ٹیکنالوجی کمپنی 'الٹرا ریڈ ٹیکنالوجیز' کے دو انجینئرز میحول شاہ اور نیول شاہ نے تیار کی ہیں۔

دونوں انجینئرز کا کہنا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر اُنہوں نے محسوس کیا کہ مقامی سطح پر حفاظتی آلات کی تیاری ناگزیر ہے۔ لہٰذا صرف تین دن میں اُنہوں نے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے مذکورہ حفاظتی شیلڈ کا ڈیزائن تیار کیا اور اب وہ روزانہ 500 حفاظتی شیلڈز تیار کر رہے ہیں۔

تھری پرنٹنگ کے ذریعے انجینئرز نے مقامی سطح پر فیس شیلڈ کا ڈیزائن تیار کیا ہے۔
تھری پرنٹنگ کے ذریعے انجینئرز نے مقامی سطح پر فیس شیلڈ کا ڈیزائن تیار کیا ہے۔

دونوں انجینئرز کا کہنا ہے کہ وہ کینیا کی عوام کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ سب کچھ باہر سے منگوانے کی ضرورت نہیں بلکہ مقامی سطح پر بھی یہ اشیا تیار ہو سکتی ہیں۔

مذکورہ انجینئرز ایسے پارٹس بھی تیار کر رہے ہیں جنہیں جوڑ کر ایک وینٹی لیٹر کو دو مریضوں کے لیے قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ مقامی سطح پر وینٹی لیٹرز کی تیاری کے لیے بھی انجینئرز کام کر رہے ہیں۔

کینیا میں کرونا وائرس کے 912 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 50 ہے۔

میحول شاہ کا کہنا ہے کہ وہ ہر طرح کی صورتِ حال سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

انجینئرز کا کہنا ہے کہ پہلے جن کمپنیوں میں مقابلے کی فضا ہوتی تھی۔ وہ سب مل کر اس وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

رابطوں کا سراغ لگانے والی ایپ

کینیا میں ہی آئی ٹی ماہرین ایسی ایپلیکیشن کی تیاری پر کام کر رہے ہیں جس کے ذریعے کرونا وائرس کے مریض کے دیگر افراد سے رابطوں کا تعین کیا جا سکے گا۔

'ایم سفاری' کے نام سے اس ایپ کے ذریعے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والوں کو ٹریک کیا جائے گا۔

مذکورہ ایپلیکیشن کے ذریعے پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار ہونے سے قبل مسافر کا ڈیٹا حاصل کیا جائے گا۔ اگر کسی مسافر کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو ایک کوڈ اور پبلک ٹرانسپورٹ کے رجسٹریشن نمبر کے ذریعے اس بس میں سوار ہونے والے دیگر مسافروں تک رسائی آسان ہو گی۔

کم لاگت وینٹی لیٹرز کا کلینکل ٹرائل جاری ہے۔
کم لاگت وینٹی لیٹرز کا کلینکل ٹرائل جاری ہے۔

کم لاگت وینٹی لیٹرز کی تیاری

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث وینٹی لیٹرز کی کمی ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی افریقی سائنس دان کم لاگت والے وینٹی لیٹرز کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 10 ملکوں میں تو سرے سے وینٹی لیٹرز دستیاب ہی نہیں ہیں۔

نیروبی کی کینیاتا یونیورسٹی کے انجینئرز نے طبی ماہرین کی معاونت کے ساتھ کم لاگت کا وینٹی لیٹر تیار کیا ہے۔ اس کی لاگت درآمد شدہ وینٹی لیٹر سے دس گنا کم ہے۔ درآمد شدہ وینٹی لیٹر کی مالیت لگ بھگ 10 ہزار ڈالرز تک ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیا کی پانچ کروڑ آبادی کے لیے صرف 50 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں۔

کینیاتا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر گورڈن کا کہنا ہے کہ ہم مقامی طور پر دستیاب وسائل سے یہ وینٹی لیٹرز تیار کر رہے ہیں۔ وبائی امراض تو آتے رہتے ہیں لہذٰا ہمیں بھی اپنی تیاری کرنا ہو گی۔

مذکورہ وینٹی لیٹر کا کلینکل ٹرائل جاری ہے۔ گھانا، روانڈا اور صومالیہ جیسے پسماندہ ملکوں میں بھی انجینئرز اور سائنس دان مختلف ایجادات کی کوشش کر رہے ہیں۔

روانڈا نے گزشتہ ہفتے چار روبوٹس کو کرونا وائرس وارڈز میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے مختص کیا ہے تاکہ انسانوں کا میل جول کم کیا جا سکے۔

اسی طرح گھانا میں ایک امریکی کمپنی کے تعاون سے بچوں کی ویکسین اور ادویات کی فراہمی کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وبائی مرض کے باعث جہاں بہت سی مشکلات ہوئی ہیں وہیں ضرورت پڑنے پر نئی ایجادات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG