رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس سے تین درجن ملکوں میں قحط کا خطرہ


جنوبی افریقہ کے قصبے کیپ ٹاؤن میں بچے کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے دوران خوراک حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ 21 اپریل 2020

خوراک کے عالمی ادارے کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کے مزید تکلیف دہ اثرات ظاہر ہونے کے خدشات موجود ہیں جس کے لیے ابھی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے نیوز چینل سی بی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آنے والے دنوں میں انسانی ہمدردی کے شدید بحران کا سامنا ہو سکتا ہے اور تین درجن کے لگ بھگ ملکوں میں قحط پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سب سے شدید بحران ہوگا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بندرگاہیں بند پڑی ہیں اور رسد کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کے اعلیٰ عہدے دار، ڈیوڈ بیسلی نے، جو اس سے قبل ساؤتھ کرولائنا کے گورنر رہ چکے ہیں، بتایا کہ امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں ملک کو غربت، خوراک کی قلت اور عدم استحکام سے بچانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ لیکن، ان کا کہنا تھا کہ خوراک کی نقل و حمل جاری رکھنے کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

معیشت کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سارے عوامل کو پیش نظر رکھ کر احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے اور کرونا وائرس کا پھیلاؤ بھی قابو میں رہے۔

اس وقت افریقہ کے کئی ملکوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں لاکھوں پناہ گزینوں کو بھی خوراک اور زندگی کی بنیادی سہولتوں کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی ادارے ان کی مدد کے لیے دنیا بھر سے اپیلیں کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں ملنے والی امداد ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG