رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: دل کے مریضوں کو احتیاط کی خاص ضرورت


ڈاکٹر آصف رحمان

ماہرین کہتے ہیں کرونا وائرس سے اگرچہ سب لوگوں کو خطرہ ہے مگر دل کے مریضوں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں ہارٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے) کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، نصف سے زیادہ امریکی ہائی بلڈ پریشر کا شکار رہتے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کی بیماری یا کینسر کے مریضوں کو اگر کرونا وائرس متاثر کرے تو انہیں بہت زیادہ خطرات ہو سکتے ہیں۔

کرونا وائرس: دل کے مریضوں کے لئے کہیں زیادہ خطرناک
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:53 0:00

اس بارے میں کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر آصف رحمان نے بتایا کہ جن لوگوں میں کرونا وائرس پایا گیا ہے ان میں زیادہ تعداد ایسے مریضوں کی ہے جن کی عمر 60 برس یا اس سے زیادہ ہے؛ اور ان میں دل کی بیماری کی وجوہات جیسے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، پہلے کبھی دل کا دورہ یا دل کی کوئی سرجری ہوئی ہو اور وہ دوائیں کھا رہے ہوں تو انہیں خطرہ زیادہ ہے، کیونکہ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔

ڈاکٹر آصف رحمان نیویارک میں ایسوسی ایٹ ڈئیریکٹر انٹروینشنل کارڈیالوجی ہیں اور نارتھ امریکہ میں پاکستانی امریکن ڈاکٹروں کی تنظیم 'اپنا' کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ بھی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کرونا کی وبا سے بچنے کیلئے ایسے مریضوں کو بھی وہی حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی جو عام لوگوں کیلئے ضروری ہیں، البتہ دل کے مریضوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر آصف نے مزید کہا کہ ایسے لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی تمام دوائیں باقاعدگی سے کھائیں، تھوڑی بہت ورزش اور چہل قدمی کریں، گرم پانی میں لیموں یا ادرک کا استعمال کریں اور وٹامن سی اور ملٹی وٹامن ضرور کھائیں۔ یہی ہدایت اے ایچ اے، ہارٹ فیلئر سوسائٹی آف امریکہ اور امریکی کالج آف کارڈیالوجی نے بھی کی ہے، کیونکہ ایسے سوال پوچھے جا رہے تھے آیا بلڈ پریشر یا دل کی بیماری کی دوائیں کووڈ 19 کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔

کرونا وائرس کی وبا کے بعد یہ بات زیرِ بحث رہی ہے آیا ملیریا کی دوا ہائیڈروکسی کلورو کوئین سے ان مریضوں کا علاج ہو سکتا ہے یا نہیں؟ ہم نے جب یہ سوال ڈاکٹر آصف رحمان سے پو چھا تو انہوں نے کہا کہ ’’اس دوا کے موثر ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ لیکن، اس دوا کا لٹریچر پڑھئے تو اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دوا وائرس سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔ چونکہ مریض کی جان بچانے کیلئے ڈاکٹر ہر دوا استعمال کرتے ہیں، چنانچہ کسی اور دوا کی عدم موجودگی میں بعض ڈاکٹر زیتھرومیک کے ساتھ ملا کر اس کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کے تجربات مختلف ہیں''۔

تاہم، وہ خبردار کرتے ہیں کہ دل کے کسی مریض کو اگر کرونا وائرس کا انفیکشن ہو گیا ہے تو اسے فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے اور اپنے طور پر کوئی دوا استعمال نہیں کرنی چاہیئے۔

کرونا وائرس کسی کو بھی ہو، خطرہ تو ضرور ہے مگر 'ویب میڈ' میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، چین اور ووہان سے ملنے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا ہونے والے جن لوگوں کو دل کا مرض لاحق تھا ان کی موت کی شرح ساڑھے دس فیصد رہی۔ ان میں 7.3 فیصد ذیابیطس، 6.3 فیصد سانس کی بیماری اور 6 فیصد وہ لوگ تھے جو ہائی بلڈ پریشر کا شکار تھے۔

اعداد و شمار کچھ بھی کہیں کرونا وائرس کا خطرہ سب کیلئے ہے اور گھر میں بند رہ کر احتیاط اور ہاتھوں کی صفائی کووڈ 19 سے بچا سکتی ہے تو غنیمت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG