رسائی کے لنکس

کرونا میں مبتلا والد کے لیے دعا کی اپیل نے مشکل میں ڈال دیا


طوطالئی کا خوبصورت منظر
طوطالئی کا خوبصورت منظر

پاکستان کے ایک گاؤں میں کرونا وائرس کی وبا میں والد کی بیماری اور معاشرتی دباؤ کا مقابلہ کرنے والے نجیب اللہ کہتے ہیں کہ لوگوں کی باتیں کرونا سے زیادہ تکلیف دہ تھیں۔

تولالئی گاؤں
تولالئی گاؤں

سرسبز پہاڑوں میں گھرا ضلع بنیر کے پی کے، کا گاؤں طوطالئی اپنے خوشگوار موسم اور قدرتی نظارے لئے وہاں رہنے والوں کی سادگی اور محبت کی روایات کے لئے مشہور ہے۔ ضلع بنیر کی اس یونین کونسل میں لوگ زیادہ تعلیم یافتہ نہ سہی مگر اسکول موجود ہیں اور نجیب اللہ جیسے نوجوان بھی ہیں جو ہزارہ یونیورسٹی کے گریجوایٹ ہیں۔

نجیب اللہ نے 2017 میں گریجویشن مکمل کی اور اب اپنے گاؤں ہی میں گرینائٹ کا کام کرتے ہیں۔ نجیب کہتے ہیں کہ ان کے گاؤں کے اکثر نوجوان سکول سے فارغ ہو کر بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور زیادہ تر دبئی میں ورک فورس میں شامل ہیں

نجیب اللہ کے والد
نجیب اللہ کے والد

کرونا وائرس کی وبا ملک میں پھیلی تو گاؤں والوں کو بھی تشویش ہوئی مگر معمولاتِ زندگی میں فرق نہیں آیا۔ جو لوگ شعور رکھتے ہیں انہوں نے اپنے طور پر احتیاط شروع کی مگر پھر رمضان کے مہینے کے آخر میں اچانک کووڈ نائنٹین کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔

نجیب اللہ کہتے ہیں ان کے والد کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور شدید بخار کی وجہ سے انہیں ڈاکٹر کے پاس لیجانا پڑا۔ وہ کہتے ہیں گاؤں میں کوئی بہتر سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے والد کو صوابی کے ایک نجی کلینک لے گئے۔ ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ ان میں تمام تر علامات کووڈ نائنٹین کی ہیں، بہتر ہو گا کہ انہیں گھر لے جائیں اور احتیاط کریں۔

نجیب اللہ کہتے ہیں ان کے والد کی عمر 53 سال ہے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے سلسلے میں وہ کوئی بداحتیاطی کریں۔ چنانچہ وہ انہیں فوراً گھر لے کر آئے اور سب گھر والوں سے انہیں الگ کر دیا۔ اور صرف وہ خود ان کی دیکھ بھال کرتے رہے اور پوری احتیاط کے ساتھ۔

نجیب اللہ کہتے ہیں گاؤں میں سب کا ملنا جلنا اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے الگ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ اور ان کے گھر میں مشترکہ خاندانی نظام کے تحت خاندان کے سب لوگ ایک ہی گھر میں مل کر رہتے ہیں۔ تاہم گھر کے دو حصے ہیں اور ایک حصے میں انہوں نے والد کو رکھ کر سب کا وہاں آنا جانا بند کر دیا۔ صرف وہ خود ان کے پاس جاتے اور پوری احتیاط کرتے رہے۔ مگر اس پر ایک ہنگامہ ہو گیا۔

گھر والے، برادری کے لوگ، دوست احباب جو ہر دکھ سکھ میں ساتھ ہوتے ہیں انہیں کرونا وائرس میں مبتلا اپنے والد سے دور رکھنا اور ان کی بیمار پرسی سے روکنا مشکل ہو گیا۔ ناراضگیاں، طعنے اور دھمکیاں۔ نجیب کہتے ہیں بڑا مشکل وقت تھا۔

ایک طرف والد کی حالت اور دوسرے خاندان بھر کی ناراضگی۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ انہیں علم تھا کہ پہلے سے کووڈ کے شکار کسی شخص کے لئے بیماری کے دوران ہی اس وائرس کا دوبارہ حملہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اور دوسروں کو اس وائرس میں مبتلا ہونے سے بچانا کتنا اہم ہے۔

اسی دوران ہزارہ یونیورسٹی کے اس گریجوایٹ نے فیس بک پر اپنے دوستوں سے والد کی صحت یابی کی دعا کی درخواست کر دی۔ اور وہاں بھی لوگوں نے اسے خودنمائی اور والد کے ذریعے توجہ حاصل کرنے کی کوشش سے تعبیر کیا۔ جس نے نجیب اللہ کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے اتنا کچھ کہا کہ میں آپ کو کیا بتاؤں۔ کرونا کی وبا بجائے خود اعصاب شکن ہے اس پر لوگوں کی تلخ باتیں وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب آپ کو دوسروں کی ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔

مگر انسان ایسا ہی ہے۔ اپنے آس پاس لوگوں کو پریشان دیکھ کر بھی اس وقت تک ان کی تکلیف محسوس نہیں کرتا جب تک کہ خود اس سے نہ گزرے۔

کووڈ نائنٹین کی شدت بڑے شہروں میں تو محسوس کی جاتی ہے مگر دیہات میں اکثر لوگ نہیں جان پاتے کہ ان کا کوئی پیارا کیسے موت کے منہ میں چلا گیا۔

ڈاکٹر عمر ایوب خان پاکستان سارک ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کے پی کے کی بات کریں تو وہاں کووڈ سے شرح اموات چار اعشاریہ پچیس فیصد ہے جب کہ باقی کہیں بھی ڈیڑھ فیصد سے زیادہ اموات نہیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ کرونا وائرس کے ٹیسٹ کروانے سے قاصر ہے۔ مفت ٹیسٹ کی سہولتیں نہیں ہیں اور سب لوگ پرائیویٹ کلینکس میں نو ہزار روپے فی کس ادا کر کے ٹیسٹ نہیں کروا سکتے۔

اور نجیب کہتے ہیں کہ ان کے کسی قریبی سرکاری ہسپتال میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروانے کی سہولت موجود نہیں۔

گاؤں تلالئی میں اگرچہ نوجوان تعلیم سے زیادہ جلد از جلد کوئی ملازمت کرنے یا ملک سے باہر جا کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے گھر والوں کو ان کے بغیر رہنے کی عادت بھی ہے مگر کرونا وائرس کی وبا انہیں ہراساں کرنے کیلئے کافی ہے

نجیب اللہ کہتے ہیں کہ ان کے گاؤں میں بہت سے لوگ حال ہی میں دبئی سے واپس بھی آئے ہیں جن میں ان کا کزن بھی شامل ہے، کیونکہ کرونا وائرس کی وبا کے پھیلتے ہی بہت سے کارکنوں کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے پاکستان واپس آنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں کو قرنطینہ کے کسی مرکز میں نہیں رکھا گیا بس ٹیسٹ کر کے گھر بھیج دیا گیا اور بعد میں اطلاع بھی صرف ان لوگوں کو دی گئی جن کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ گاؤں کے لوگوں نے اپنے طور پر احتیاط کی ہے اسی لئے چند ایک کیسز کے علاوہ بیشتر گاؤں محفوظ ہے۔

کے پی کے کا یہ علاقہ معدنیات کا حامل ہے اور خود نجیب اللہ گرینائٹ کی کان کنی کا کام کرتے ہیں۔ کہتے ہیں مشکل ہے مگر اپنا کام ہے۔ بہت خوش ہیں کہ انہوں نے گاؤں بھر کی ناراضگی مول لی مگر خود کو اور اپنے گھر والوں کو کووڈ نائنٹین سے محفوظ رکھا۔ اب ان کے والد صحتیاب ہو چکے ہیں۔ اور ان کے لئے سب سے زیادہ اہمیت اسی بات کی ہے کہ ان کے والد کو نئی زندگی ملی ہے۔

نجیب اللہ کا انٹرویو سننے کے لیے نیچے دیے ہوئے لنک پر کلک کیجیے۔

XS
SM
MD
LG