رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں کرونا وائرس کو کیسے روکا جا رہا ہے؟


کراچی میں کسی شخص کو سندھ رینجرز کی جانب سے فون آئے تو وہ گھبرا جاتا ہے۔ عام طور پر ایسے فون کسی سنگین صورتحال میں موصول ہوتے ہیں۔ گزشتہ کئی دن سے رینجرز کے مختلف ہیڈکوارٹرز سے ایسے افراد کو فون کیے جارہے ہیں جو حال میں ایران سے واپس آئے ہیں۔

چونکہ اکثر ایسا بھی ہوا ہے کہ نوسرباز، فوج یا رینجرز کا نام لے کر فراڈ بھی کرتے ہیں، اس لیے بعض لوگوں نے ان کالز کو ریکارڈ کر لیا۔ وائس آف امریکہ کو ایسی چند کالز سننے کا موقعہ ملا۔ خود کو رینجرز کا نمائندہ بتانے والا شخص سوال کرتا ہے کہ آپ ایران سے کب آئے، آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ بخار تو نہیں؟ نفی میں جواب ملنے کے بعد وہ فون بند کردیتا ہے۔

سندھ رینجرز کے علاوہ قومی ادارہ صحت کی جانب سے بھی زائرین کو فون کیے جا رہے ہیں۔ ان اداروں کو زائرین کے نام ان ٹور آپریٹرز نے فراہم کیے ہیں جو زیارات کے قافلے لے کر ایران جاتے ہیں۔

بہت سے زائرین نے بتایا کہ وطن واپسی کے بعد قرنطینہ میں رکھنا تو دور کی بات ہے، کسی نے ان کا ٹیسٹ کرنے کے لیے بھی نہیں پوچھا۔

اس وقت صرف اسلام آباد میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کی سہولت ہے۔ کراچی یا کسی اور شہر میں کرونا وائرس کے شبے پر خون کا نمونہ لے کر اسلام آباد ہی بھیجا جا سکتا ہے۔

ایران میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد ہمسایہ ملکوں نے سرحدیں بند کر دی ہیں، بین الاقوامی پروازیں روک دی گئی ہیں اور زائرین کے قافلوں کی آمد و رفت ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں سینکڑوں پاکستانی زائرین ایران میں پھنس گئے ہیں۔

کراچی کے الحرمین ٹریولز ہر ماہ کم از کم ایک قافلہ لے کر ایران جاتے ہیں جس میں ساٹھ سے سو تک زائرین شامل ہوتے ہیں۔ اس کے نوازش رضا نے بتایا کہ وہ فضائی راستے سے قافلے لے جاتے ہیں۔ لیکن، اب پروازیں بند کی جا چکی ہیں۔ خوش قسمتی سے ان کا قافلہ اس وقت ایران میں نہیں۔

ہر سال لاکھوں پاکستانی زائرین ایران جاتے ہیں۔ تہران ٹائمز کے مطابق 2018 میں صرف محرم اور صفر میں 75 ہزار پاکستانی زائرین نے ایران کا دورہ کیا تھا۔

زائرین کی توجہ کا مرکز شمال مشرقی شہر مشہد ہوتا ہے جبکہ وہ دارالحکومت تہران اور اس کے قریب واقع قُم بھی جاتے ہیں۔ مشہد میں اہل تشیع کے آٹھویں امام علی رضا اور قم میں ان کی بہن معصومہ کے روضے ہیں۔ تہران میں کئی امام زادوں کے علاوہ ایرانی انقلاب کے رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کا مزار ہے۔

ایئر گائیڈ ٹریولز کے وسیم رضا نے بتایا کہ ایران کے قافلے روک دیے گئے ہیں۔ ان کا ایک قافلہ عراق جا رہا ہے۔ پاکستان کی طرح عراق نے بھی ایران کی سرحد بند کر دی ہے۔

جو ایران میں ہیں، وہ وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسے قافلے زیادہ سے زیادہ دو ہفتے کے لیے جاتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دو ہفتے بعد جب مدت ختم ہوجائے گی تو وہ کیا کریں گے اور ان کے ایران میں قیام کا خرچہ کون برداشت کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG