رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: پاکستان، ایران سرحد بدستور بند


بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت سے مدد طلب کی ہے۔

ایران میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے اور ہلاکتوں میں اضافے کے بعد پاکستان نے صوبہ بلوچستان میں ایران سے متصل سرحد کو 'تفتان' کے مقام پر ہر قسم کی آمدورفت اور تجارت کے لیے بند کر رکھا ہے۔

تفتان سرحد سے پاکستان سے ہزاروں زائرین مقدس مقامات کی زیارت کے لیے ایران اور عراق جاتے ہیں۔ یہاں دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی تجارت بھی ہوتی ہے۔

ادھر محکمہ صحت کے حکام کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیر کے سلسلے میں سرحد پر موجود لوگوں کو پاکستان ہاوس منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔ ان افراد کو مزید 10 روز تک نگرانی میں رکھا جائے گا۔

کرونا وائرس کے ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے بلوچستان کے محکمہ صحت نے وفاقی حکومت اور عالمی ادارہ صحت سے مدد طلب کر رکھی ہے۔ گزشتہ روز ڈائریکٹر جنرل صحت بلوچستان ڈاکٹر شاکر بلوچ بھی اسی سلسلے میں اسلام آباد میں موجود رہے۔ جہاں ایران میں موجود پاکستانی زائرین اور کرونا وائرس کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

کرونا وائرس سے متاثرہ ایران میں پھنسے پاکستانی
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:54 0:00

بلوچستان حکومت اپنے طور پر اب تک کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے 10 ہزار ماسک تفتان بھجوا چکی ہے جب کہ سات ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم، چار موبائل اسپتال اور 10 ایمبولینسز بھی فراہم کی گئی ہیں۔

بلوچستان حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان کے راستے ایران میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے پانچ ہزار سے زائد افراد جا چکے ہیں۔ اُن کی واپسی کا سفر شروع ہی ہوا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا پھوٹ پڑی۔

ان زائرین کے علاوہ بڑی تعداد میں تجارت اور رشتہ داروں سے ملاقات کی غرض سے جانے والوں کی بڑی تعداد بھی ایران میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ جن کے لواحقین صورتِ حال پر پریشان ہیں۔

تجارت بند ہونے سے ایران سے ایل این جی گیس کی ترسیل بھی تعطل کا شکار ہے۔ جس کے باعث پاکستان میں گیس کی قمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ہزاروں پاکستانی زائرین ایران میں موجود ہیں۔
حکام کے مطابق ہزاروں پاکستانی زائرین ایران میں موجود ہیں۔

تفتان کے ایک رہائشی عبدالخالق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے کئی رشتہ ایران کے بلوچ اکثریتی علاقے 'سیستان بلوچستان' میں رہائش پذیر ہیں۔ اس لیے ان کے خاندان کے اکثر افراد کا ایران آنا جانا لگا رہتا ہے۔

عبدالخالق کے بقول ہمارے بہت سے رشتہ دار احباب سے ملنے ایران میں موجود ہیں مگر جب سے ہمیں اس موذی مرض (کرونا وائرس ) کے بارے میں معلوم ہوا ہے ہم ان کے خیریت کے حوالے سے پریشان ہیں۔

بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے محکمہ صحت اور 'پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی' (پی ڈی ایم اے) کے حکام کے ہمراہ تفتان کے سرحد پر کرونا وائرس سے بچنے کے لیے قائم میڈیکل کیمپ کا دورہ کیا۔

صوبائی حکومت نے وفاق اور عالمی ادارہ صحت سے مدد طلب کی ہے۔
صوبائی حکومت نے وفاق اور عالمی ادارہ صحت سے مدد طلب کی ہے۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا لانگو نے کہا کہ تفتان کے مقام پر پاکستان، ایران سرحد پر سو افراد کے لیے کیمپ قائم کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ایران سے مزید زائرین کی آمد کی صورت میں مزید انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ضیا لانگو کے مطابق بلوچستان حکومت وفاق اور ایرانی حکومت کے ساتھ مل کر یہ طے کرے گی کہ ایران سے آنے والے زائرین کے لیے کب سرحد کھولی جائے گی۔

ایران کے بعد افغانستان میں بھی کرونا وائرس کے مشتبہ کیسز سامنے آنے کے بعد چمن سرحد پر بھی ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وہاں 20 ڈاکٹروں پر مشتمل ڈاکٹروں کی ٹیم کے علاوہ آںے جانے والے افراد کی سکریننگ کا عمل بھی جاری ہے۔

البتہ، تین روز تک سرحد پر موجود سامان سے لدے کنٹینرز کو چیکنگ کے بعد گزشتہ روز ایران جانے کی اجازت دے دی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG