رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور میں 'سپر اسپریڈر' کے باعث کرونا کا پھیلاؤ، معاملہ ہے کیا؟


پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے بعض علاقوں میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد ان علاقوں کے لیے 'سپر اسپریڈر' کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہاں کے رہائشی اگر احتیاط کرتے تو وبا اتنی تیزی سے نہ پھیلتی۔

محکمہ صحت پنجاب نے اس ضمن میں لاہور کے پانچ علاقوں کی نشاندہی کی ہے۔ جن میں اسکندریہ کالونی، مکھن پورہ، شاہدرہ، شالامار اور رائے ونڈ کے علاقے شامل ہیں۔

لاہور کے میو اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم نے بتایا کہ 'سپر اسپریڈر' ایک طبی اصطلاح ہے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ وبائی مرض کا شکار ایسا شخص جس نے بہت سے لوگوں میں وائرس منتقل کیا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم نے بتایا کہ کرونا کی حالیہ وبا کے دوران 'سپر اسپریڈر' کی اصطلاح لاہور میں ثمن آباد کے علاقے اسکندریہ کالونی کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ جہاں کرونا کا مرض بہت تیزی سے پھیلا۔

اُن کے بقول "سپر اسپریڈر ایسے شخص کو کہتے ہیں کہ جو جگہ جگہ پھرتا رہا۔ وہ گھروں میں بھی گیا ہے۔ بازار میں بھی چکر لگاتا رہا۔ اپنے عزیز و اقارب کے ہاں بھی جاتا رہا۔ ایسا شخص کیرئیر (بیماری پھیلانے کا ذریعہ) ہوتا ہے۔ جس کو پتا نہیں ہوتا کہ وہ کسی وبائی مرض یا کرونا میں مبتلا ہے۔

ڈاکٹر اسد کا کہنا ہے کہ ایسے مریض جہاں جہاں جاتے ہیں اس بیماری (کرونا) کے جراثیم پھیلاتے جاتے ہیں۔

اسکندریہ کالونی میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک مریض معمول کے مطابق علاقے میں پھرتا رہا اور لوگوں میں وائرس منتقل کرتا رہا۔ ڈاکٹر اسد کہتے ہیں کہ سائنس کہتی ہے کہ اگر متاثرہ شخص میل جول محدود کر دے تو پھر بھی وہ کم سے کم 10 افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔

لیکن اگر وہ آزادانہ گھومتا رہا تو وہ مزید کئی افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔

'نہ کوئی ٹرین آتی ہے، نہ کچھ ملتا ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:36 0:00

محکمہ پرائمری اینڈ اسکینڈری ہیلتھ پنجاب کے مطابق لاہور کے پانچ علاقوں میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھی۔ جس کے بعد اِن علاقوں کی جانچ پڑتال اور متاثرہ اشخاص کے ٹیسٹ شروع کیے گئے۔

سیکرٹری صحت پنجاب کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ رائے ونڈ کے علاوہ کسی بھی جگہ کے رہائشیوں کی کوئی ٹریول ہسٹری سامنے نہیں آئی ہے۔

محمد عثمان یونس کے مطابق لاہور کے علاقوں شاہدرہ، اسکندریہ کالونی، شالامار اور مکھن پورہ میں یہ وائرس مقامی طور پر ہی پھیلا ہے۔

سیکریٹری صحت نے بتایا کہ اِن علاقوں میں بڑی تعداد میں مریض سامنے آنے پر پولیس کی مدد سے اِن علاقوں کو سیل کیا گیا اور کسی بھی شخص کو اِن علاقوں سے باہر جانے اور اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔

سیکرٹری صحت نے مزید بتایا کہ لاہور کے علاقے اسکندریہ کالونی میں پہلا کیس سامنے آنے کے بعد اُس سے جُڑے 130 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے اور انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ جس میں سے 38 افراد میں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے۔

اُن کے بقول علاقے کے ایک گھر سے نو مریض، ایک سے سات اور ایک گھر سے پانچ مریض سامنے آئے۔ اسکندریہ کالونی میں ایک شخص تھا جو اس وائرس میں مبتلا تھا، لیکن وہ علاقے میں کھلے عام پھرتا رہا اور وائرس پھیلاتا رہا۔

ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال کہتے ہیں کہ شہر کے پانچ علاقوں میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کو روکنے کے بعد سب سے بڑا چیلنچ وہاں خوراک کی ترسیل تھی۔

دانش افضال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسکندریہ کالونی میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے مریض سامنے آنے پر اِسے سیل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ شاہدرہ، شالامار، مکھن پورہ کے کچھ علاقوں اور رائے ونڈ کو بھی مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق اِن علاقوں میں پولیس کی مدد سے جگہ جگہ ناکے لگائے گئے ہیں جہاں 24 گھنٹے پولیس اہلکار ڈیوٹیاں دیتے ہیں۔ رائے ونڈ سٹی میں بھی بہت سے کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں کو مقامی طور پر قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے بقول ان علاقوں کو ریڈ زون کا نام دیا گیا ہے۔ جہاں سیل کیے جانے والے علاقوں میں جراثیم کش اسپرے بھی کرایا جا رہا ہے۔

اُن کے بقول ان علاقوں میں مخیر حضرات کے تعاون سے راشن اور کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اسکندریہ کالونی کے 55 گھروں، مکھن پورہ کے 75 اور شالامار کے 440 اور رائے ونڈ کے 5200 گھروں میں حکومت کی جانب سے راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG