رسائی کے لنکس

logo-print

'تراویح اور عبادات سے متعلق فیصلہ کسی کی خواہش پر نہیں کریں گے'


(فائل فوٹو)

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں نماز تراویح اور اجتماعی عبادات سے متعلق کسی کی خواہش پر فیصلے نہیں ہوں گے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ ریاستِ پاکستان کا ہی ہو گا۔

وفاقی وزیر کے بقول رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے نماز اور تراویح سے متعلق جو کہا وہ اُن کے فیصلے کے بجائے مطالبات تھے۔

نور الحق قادری نے بتایا کہ رمضان میں پاکستان سے لوگ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب نہیں جا سکیں گے۔ سعودی حکومت نے رمضان میں عمرہ ویزوں کا اجرا روک دیا ہے۔

اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ مساجد میں عبادات کے حوالے سے حکومت اور علما کے درمیان آنکھ مچولی جاری ہے۔ علما کے ساتھ بعض معاملات پر اختلافات صرف کرونا وائرس کے باعث ہی نہیں بلکہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔

نورالحق قادری نے کہا کہ تراویح ایک نفلی عبادت ہے۔ اگر فرض نماز اور نماز جمعہ کو محدود کیا جاسکتا ہے تو تراویح کی ادائیگی کیسے ہو اس پر بھی بات کی جاسکتی ہے. لیکن ہم ہر فیصلہ علمائے کرام کو اعتماد میں لے کر کریں گے۔

وزیر اعظم کے بجائے صدرِ پاکستان کے ساتھ علما کے مذاکرات کے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کے دفتر میں آپریشنل اُمور کے باعث صدر کا دفتر استعمال کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ علما کی فہرست صدر کو دی، کچھ نشستیں صدارتی دفتر میں ہوئیں اور بعض معاملات پر ویڈیو لنک کے ذریعے مشاورت ہوئی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ علما نے بعض معاملات پر حکومت کا ساتھ دیا جب کہ کچھ معاملات پر اختلاف رائے برقرار رہا۔ اختلافی اُمور پر اُنہیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مفتی منیب کا فیصلہ یا مطالبہ؟

نور الحق قادری نے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کے رمضان میں نماز اور تراویح کے لیے لاک ڈاؤن کی پابندی نہ کرنے کے بیان پر کہا کہ "مفتی منیب کے ساتھ ہمارا ایک محبت اور احترام کا رشتہ ہے۔ ان سے میری تفصیلی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ مجھے نہیں پتا کہ کس ماحول میں انہوں نے یہ بات کی۔"

وفاقی وزیر نے کہا کہ "مفتی منیب کی پریس کانفرنس سے یہ تاثر ملا کہ اُنہوں نے یہ فیصلے کیے ہیں۔ اُنہوں نے حکومت سے رابطہ کرنے کی زخمت گوارہ نہیں کی۔ جس پر اُن سے پوچھا کہ آپ کے اعلان سے سوالات پیدا ہوئے۔"

نور الحق قادری نے کہا کہ 18 اپریل کو اُن کی علما سے مشاورت ہو گی، جس میں اُن کا موقف سن کر ہی کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جائے گا۔

کیا گرفتاریاں ممکن ہیں؟

حکومتی رٹ تسلیم نہ کرنے والے علما کی گرفتاریوں سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر بولے کہ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ایسی صورتِ حال نہ ہو۔ مساجد کے ساتھ محاذ آرائی کسی کے فائدے میں نہیں ہے۔

"لہذٰا ہم کوئی ناخوشگوار صورتِ حال پیدا نہیں ہونے دیں گے، اگر پکڑ دھکڑ ہوئی تو اس سے نہ صرف ریاست بلکہ علما کی ساکھ بھی متاثر ہو گی۔"

نور الحق قادری نے کہا کہ "ریاست، ریاست ہوتی ہے۔ ہم کسی کی خواہش پر مبنی فیصلے نہیں کریں گے۔ ریاست ایسے فیصلے کرے گی جو عوام کے مفاد میں ہوں گے۔"

رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن (فائل فوٹو)
رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن (فائل فوٹو)

'اس سال رمضان میں عمرہ ممکن نہیں'

پاکستان میں ہرسال لاکھوں عمرہ زائرین رمضان میں عمرہ ادا کرنے سعودی عرب جاتے ہیں۔ لیکن رواں سال کی صورتِ حال پر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند سالوں سے ہر سال عمرہ زائرین رمضان کے اختتام تک جس شرح سے بڑھ رہے تھے امکان تھا کہ اس سال یہ تعداد 20 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

ان میں سب سے زیادہ زائرین رجب، شعبان اور رمضان میں جاتے تھے جن کی تعداد 15 سے 16 لاکھ تک ہو جاتی تھی۔ لیکن سعودی حکومت نے اپنے سفارت خانوں کو عمرہ ویزہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ اس سال عمرہ سیزن نہیں ہو گا اور اگر ہوگا تو بہت محدود ہو گا۔

نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ عمرہ نفلی عبادت ہے، اس عبادت کے لیے عام طور پر ڈھائی لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ اس وقت ملک میں جو صورتِ حال ہے اس میں وہ پیسے اگر غریبوں اور مستحقین پر خرچ کیے جائیں تو بہت اچھا ہو گا۔

پاکستانی حجاج حج کرسکیں گے ؟

نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ اُن کی سعودی وزیر حج سے بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ آپ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ سعودی وزیرحج نے کہا ہے کہ جب تک سعودی عرب آگاہ نہیں کرتا اس وقت تک حتمی معاہدے نہ کیے جائیں۔ امکان ہے کہ اختتام رمضان تک رواں سال حج ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت حج کے حوالے سے بہت سی تجاویز سامنے آئی ہیں جن میں تمام مسلم ممالک کے کوٹہ کو محدود کرنے یا صرف سعودی شہریوں کو اجازت دینے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔

لیکن سعودی حکام ابھی دیکھ رہے کہ کرونا کی صورتِ حال آئندہ آنے والے دنوں میں کیا ہوتی ہے۔

عمرہ اور حج کے دوران ٹور آپریٹرز سمیت دیگر کاروبار سے منسلک افراد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹورآپریٹرز کے نقصان کا اندازہ ہے۔ لیکن حکومتِ پاکستان کو اپنی جیب بھی دیکھنی ہے، ابھی تک ایسا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا اگر آیا تو کابینہ میں یہ معاملہ اُٹھاؤں گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حج کے حوالے سے سعودی حکومت رمضان کے اختتام پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حج کے حوالے سے سعودی حکومت رمضان کے اختتام پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

رمضان کا چاند ایک ہوگا یا دو؟

نور الحق قادری نے کہا کہ اس معاملہ پر ہم نے تمام زونل کمیٹیوں اور علما سے بات کی ہے، لیکن ابھی تک ہمیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ لہذا اس سال بھی رمضان خیبرپختونخوا میں ایک روز پہلے ہوگا یا نہیں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG