رسائی کے لنکس

logo-print

'یہ مشکل وقت کٹ جائے گا، اس کے بعد زندگی کی خوشیاں ہیں'


(فائل فوٹو)

چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ اسی شہر سے کرونا وائرس کا آغاز ہوا تھا تاہم اب اسے کھول دیا گیا ہے اور معاشی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

ووہان شہر میں دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے ہزاروں طلبہ بھی مختلف تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ پاکستانی طلبہ کئی ماہ تک ذہنی کرب اور اپنوں سے دوری کی تکلیف میں مبتلا رہے۔

اب جب کہ ووہان میں کرونا وائرس پر کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان میں اس کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں ان طلبہ کو یہ فیصلہ درپیش ہے کہ وہ پاکستان واپس جائیں یا چین میں ہی مقیم رہیں۔

کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے والے میر حسن بھی انہی طلبہ میں شامل ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران میر حسن کے والد کا پاکستان میں انتقال ہوا لیکن وہ واپس نہیں آ سکے۔

میر حسن والد کی وفات کے غم اور کرونا وائرس کے باعث کمرے تک محدود رہنے کے وقت کو تکلیف دہ قرار دیتے ہیں۔

ووہان میں موجود پاکستانی طلبہ اب اہلِ خانہ کے لیے پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:43 0:00

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے میر حسن نے بتایا کہ اُن کے والد آخری وقت تک اُن کی وطن واپسی کے لیے فکر مند تھے۔ البتہ، ووہان میں حالات بہتر ہونے اور پاکستان میں کیسز بڑھنے کے باوجود میر حسن واپس پاکستان آنا چاہتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ روز اُن کی والدہ سے گفتگو ہوتی ہے، وہ فون پر روتی ہیں اور اُنہیں واپس آنے کا کہتی ہیں۔

پاکستان میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد پانچ ہزار سے متجاوز جب کہ اس سے 96 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک کے کمزور نظام صحت اور ناکافی سہولیات کے باعث ماہرین وبا کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

27 سالہ میر حسن کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔
27 سالہ میر حسن کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

لیکن چین میں تین ماہ تک اس وبا سے لڑنے والے کئی پاکستانی طلبہ فلائٹ آپریشن بحال ہوتے ہی پاکستان جانے کے خواہش مند ہیں۔

پاکستان کی حکومت نے طلبہ اور اُن کے والدین کی اپیل کے باوجود وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ان طلبہ کو واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ البتہ حکومتِ پاکستان خصوصی پروازوں کے ذریعے دیگر ممالک سے پاکستانیوں کو واپس لا رہی ہے۔

میر حسن کا کہنا ہے کہ کئی روز تک جاری رہنے والے لاک ڈاؤن اور اس دوران والد کے انتقال نے اُن پر گہرے نفسیاتی اثرات مرتب کیے ہیں۔

لیکن اُن کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد ووہان شہر میں آزادانہ نقل و حمل سے ایک خوش گوار احساس مل رہا ہے۔

میڈیکل کی طالبہ حفصہ طیب نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ وہ پروازیں شروع ہونے کے اعلان کا انتظار کر رہی ہیں۔ جیسے ہی یہ اعلان ہوا وہ پہلی پرواز سے پاکستان جانا چاہیں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہیں۔ ساتھ ہی شعبہ طب سے منسلک ہونے کے باعث وہ اپنے ملک میں مریضوں کا علاج کرنے کے لیے بھی پرجوش ہیں۔

ووہان میں لگ بھگ تین ماہ بعد لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)
ووہان میں لگ بھگ تین ماہ بعد لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

لیکن بہت سے پاکستانی طلبہ ایسے بھی ہیں جو چین میں رہنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ اُن کا موقف ہے کہ پاکستان میں حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں۔ البتہ چین نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک نظام وضع کر لیا ہے۔ لہذٰا بہتر یہی ہے کہ چین میں ہی رہا جائے۔

محمد وسیم اکرم جن کی اہلیہ ہوبے میں زیرِ تعلیم ہیں نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ پہلے وہ پوری کوشش کر رہے تھے کہ اُن کی اہلیہ وطن واپس آ جائیں۔ لیکن اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اُنہیں وہی رہنا چاہیے۔

میر حسن کا کہنا ہے کہ وہ اُمید کرتے ہیں کہ پاکستان ووہان میں وائرس کے خلاف اپنائی گئی حکمت عملی سے استفادہ کرے گا۔

اُن کا کہنا ہے یہ مشکل وقت ہے اگر گھر پر رہ کر سماجی پابندیوں پر عمل کریں تو یہ وقت کٹ جائے گا اور پھر زندگی کی خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG