رسائی کے لنکس

کرونا وائرس چیلنج سے دنیا کیسے نمٹ رہی ہے؟


علی عمران

کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے اقوام عالم کو بہت سے مسائل سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ صحت عامہ اور انسانی ترقی میں گہرے تعلق کی اہمیت کو پہلے سے کہیں نمایاں کیا ہے۔

دنیا کو لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کی صورتحال سے نکالنے اور پھر سے ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری عمل ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے ممالک اسی بڑے چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ چونکہ اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے تاحال کوئی ویکسین میسر نہیں ہے، اس لیے اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

عالمی صحت کے تناظر میں دیکھا جائے تو کرونا وائرس کے اثرات مزید پھیل رہے ہیں؛ لیکن ساتھ ہی اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سےکچھ حوصلہ افزا پیش رفت بھی ہوئی ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق، کوڈ نائن ٹین COVID-19 نے اس وقت 20 لاکھ سے زائد افراد کو بیماری میں مبتلا کر رکھا ہے، جبکہ ایک لاکھ 8 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔

یونیورسٹی کے عالمی چارٹ پر نظر ڈالی جائے تو امریکہ میں اس وقت 6 لاکھ سے زائد افراد کرونا وائرس سے متاثر ہیں، جس کے بعد سپین، اٹلی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ آتے ہیں جب کہ آخر میں چین ہے، جہاں سے اس موذی مرض کا آغاز ہوا۔

کرونا وائرس کے پھیلنے کے آغاز سے اب تک جو اقتصادی اثرات مرتب ہوئے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے تجارت اور ترقی سے وابستہ ادارے کے مطابق، موجودہ معاشی بحران سے عالمی اقتصادیات پر دو کھرب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے، آئی ایم ایف کے مطابق، اقتصادی شرح نمو گھٹ کر منفی تین رہ جائے گی۔

جہاں تک اب تک کیے گئے حفاظتی اقدامات کا تعلق ہے، تجزیہ نگاروں کے مطابق ان سے کئی جگہوں پر کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی ہے۔

اس سلسلے میں ایک انتہائی اہم قدم ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی ہے، خاص طور پر نیویارک جیسے شہروں میں ٹیسٹنگ کٹس کی تیاری اور امریکی کمپنیوں کی طرف سے اس ساز و سامان کے بنانے کی رفتار میں اضافہ ایک امید افزا پیش رفت ہے۔ واشنگٹن میں بھی ایسی ٹیسٹ کٹس کا استعمال شروع ہوگیا ہے جو کچھ ہی منٹوں میں ٹیسٹ کا رزلٹ بتا دیتی ہیں۔

دوسری طرف، کرونا وائرس کی وجہ سے سر اٹھانے والے اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے لیے، ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس کے تعاون سے ایک 2 کھرب سے زائد ڈالر کے ریلیف پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے۔

عالمی سطح پر ایک حوصلہ افزا پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے گروپ، جی ٹونٹی نے ترقی پذیر ممالک کے لیےقرضے ادا کرنے کی چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔ ان ترقی پذیر ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔

حال ہی میں، اکس فیم تنظیم نے کہا تھا کہ اگر اس موذی مرض کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے اقتصادی اقدام نہ کیا گیا تو دنیا کی تقریبا نصف ارب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی جائے گی۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق، اگر امریکہ جیسے اخراجاتی پروگراموں کا بروقت فیصلہ کیا جائے تو ان کا اقتصادی بحالی کی کوششوں پر ایک مثبت اثر پڑے گا۔

لیکن، عالمی سطح پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بہت سے ممالک اقتصادی تحفظ پسندی کی پالیسی اپنانے کی باتیں کر رہے ہیں اور دیگر ممالک نے گندم جیسی خوراک کا ذخیرہ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ کچھ ممالک میڈیکل ایکوپمنٹ اور دوائیوں کی برآمدات پر بھی شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔

ان نت نئے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے، عالمی برادری کی نظریں اس وقت امریکا پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ موجودہ عالمی اقتصادی نظام امریکہ کے اردگرد گھومتا ہے۔ ڈالر کی کرنسی سے لے کر اسٹاک مارکیٹس اور تجارت سے لے کر تجارتی راستوں کی حفاظت تک یہ عالمی اقتصادی نظام امریکہ سے جڑا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق، کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دنیا کو جس چیلنج کا سامنا ہے وہ بیک وقت صحت عامہ کا اور اقتصادی ترقی کا چیلنج ہے۔

بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا اب اس غیر معمولی صورتحال سے نکل کر ایک نیے معمول کی طرف جائے گی جہاں اس بات کا احساس شدت سے ہوگا کہ صحت عامہ ہی قوموں کی دولت کی ضامن ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG