رسائی کے لنکس

کرونا وائرس سے گوریلوں کی نسل کو خطرہ


فائل فوٹو

ایک ایسے وقت میں جب کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے چھ لاکھ سے بڑھ گئی ہے اور 30 ہزار سے زیادہ لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں، جنگلی حیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس مرض سے گوریلوں کو بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کہ انسانوں کو، خاص طور پر افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والے گوریلوں کو، جن کی نسل کو پہلے سے ہی ختم ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔

کانگو کے ویروگا نیشنل پارک میں گوریلوں کی نسل بچانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس پارک میں موجود گوریلوں کی تعداد دنیا بھر میں گوریلوں کی کل تعداد کا تقریباً ایک تہائی ہے۔

جنگلی حیات کے ماہرین کے انتباہ کے پیش نظر ویروگا نیشنل پارک میں سیاحوں کا داخلہ یکم جون تک بند کر دیا گیا ہے، تاکہ یہ وائرس انسانوں سے انہیں منتقل نہ ہو۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 انسان کے قدیمی کزن گوریلا کو بھی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے جن میں پہاڑی گوریلے کی نسل بھی شامل ہیں۔

کانگو کے ہمسایہ ملک روانڈا نے بھی اپنے تین نیشنل پارکوں میں سیاحوں اور جانوروں پر تحقیق کرنے والوں کا داخلہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔ روانڈا کے ان پارکوں میں بڑی تعداد میں گوریلے اور چمپنزی موجود ہیں۔

ورلڈ وائلڈ فنڈ کا کہنا ہے کہ پہاڑی نسل کے گوریلوں کو سانس کی تقریباً وہ بیماریاں لگ جاتی ہیں جن میں انسان مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ بیماریاں ان کے لیے اس قدر خطرناک ہوتی ہیں کہ محض نزلہ اور زکام کا عام سا مرض ایک گوریلے کی جان لے سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG