رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں 'ٹیلی تھون' کے ذریعے عطیات جمع کرنے کی مہم کتنی شفاف؟


(فائل فوٹو)

پاکستان کی حکومت نے کرونا وائرس سے ہونے والے معاشی نقصانات کے اثرات کم کرنے کے لیے 'کرونا ریلیف فنڈ' قائم کر رکھا ہے۔ جس کے تحت وزیر اعظم پاکستان عمران خان مختلف ٹی وی چینلز کی معاونت سے 'لائیو ٹیلی تھون' کے ذریعے عطیات جمع کر رہے ہیں۔

پاکستان میں ماضی میں بھی عوام سے عطیات وصول کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن بعض حلقے ان فنڈز میں بدعنوانی اور درست استعمال کے حوالے سے بھی سوالات اُٹھاتے رہے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے 2018 میں اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ مل کر بھی بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے عطیات جمع کیے تھے۔ لیکن 11 ارب کے لگ بھگ جمع ہونے والے ان عطیات کو تاحال ڈیم کی تعمیر پر خرچ نہیں کیا جا سکا۔

وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو بھی مختلف ٹی وی چینلز کے ساتھ مل کر وزیر اعظم امدادی فنڈ برائے کرونا کے لیے عطیات جمع کیے۔ اعداد و شمار کے مطابق 'احساس ٹیلی تھون' پروگرام کے تحت دو ارب 76 کروڑ روپے سے زائد کے عطیات جمع ہوئے۔

وزیر اعظم عمران خان ایدھی فاؤنڈیشن کے فیصل ایدھی سے چیک وصول کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
وزیر اعظم عمران خان ایدھی فاؤنڈیشن کے فیصل ایدھی سے چیک وصول کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان عطیات کے درست استعمال سے وزیر اعظم اس حوالے سے عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دُور کر سکتے ہیں۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید کہتے ہیں کہ ناگہانی آفات، چاہے وہ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کرونا وائرس جیسے وبائی امراض پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک حکومتی وسائل سے ان سے نبرد آزما نہیں ہو سکتے۔ لہذٰا مخیر حضرات سے تعاون کی اپیل کی جاتی ہے۔

لیکن احمد ولید کے بقول اس مرتبہ صورتِ حال ماضی کی نسبت مختلف ہے۔ لوگ اس حکومت کے قیام کے بعد سے ہی معاشی مشکلات کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ لہذٰا حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔

احمد ولید کہتے ہیں کہ زیادہ تر وہ لوگ امدادی رقوم کے چیک دے رہے ہیں۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ بعد میں حکومت سے دیگر فوائد حاصل ہو سکیں گے۔ اُن کے بقول "ایسے لوگ وزیر اعظم کو چیک دے کر تصاویر بنواتے ہیں۔ کوئی ایک کروڑ دے رہا تو کوئی دو کروڑ، لیکن اُن میں سے بہت سے افراد کے کاروباری مفادات ہوتے ہیں۔"

سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایسی سرگرمیوں سے لوگوں میں مدد کرنے کا جذبہ اور شعور پیدا ہوتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ اِیسی سرگرمیوں سے حکومت اور عوام کا ایک مثبت پہلو سامنے آتا ہے۔ جو لوگ بھی ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اُس سے بہت سے دوسروں لوگوں اور ریاست کا بھلا بھی ہو جاتا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک اچھی کوشش کی گئی ہے۔ جس سے کسی نہ کسی حد تک فائدہ ہو گا۔

سہیل وڑائچ کے بقول "ایسی سرگرمیوں میں زیادہ تر لوگ تو فوری طور پر پیسے جمع کرا دیتے ہیں جن کی شرح تقریباً 70 فی صد ہوتی ہے۔ لیکن 30 فی صد ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو صرف اعلانات کرتے ہیں. اور پیسے جمع نہیں کراتے اور ایسا ہی پوری دنیا میں ہوتا ہے۔"

سینئر تجزیہ کار پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس کی رائے میں وزیراعظم پاکستان نے اِن فنڈز کے استعمال کے لیے کوئی نہ کوئی ہوم ورک لازمی کیا ہو گا۔

اُن کے بقول عام طور پر اُن کے سیاسی مخالفین اور ذرائع ابلاغ تو اُن کی کسی غلطی کے انتظار میں رہتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے کہا کہ پاکستان کی تاجر برادری اور صنعت کاروں نے اِس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی امداد کر رہے ہیں۔

رسول بخش رئیس بھی اتفاق کرتے ہیں کہ بعض لوگ صرف اعلان ہی کرتے ہیں۔ لیکن اُن کے بقول وزیر اعظم خود اس مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ لہذٰا اُمید ہے کہ سارا ریکارڈ رکھا جا رہا ہو گا۔

رسول بخس رئیس کے بقول عمران خان کے بارے میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔ لہذٰا جو فنڈز جمع ہوں گے، اُن کی شفافیت پر کوئی سوال نہیں اُٹھا سکتا۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار

احمد ولید کی رائے میں بیرون ملک پاکستانیوں سے عمران خان کو بہت امید تھی کہ وہ اِس فنڈ میں بہت زیادہ رقوم بھیجیں گے۔ لیکن وہ ایک ایسا خواب تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔

اُن کے بقول ڈیم فنڈ اُس طرح سے اکٹھا نہیں ہو سکا لوگوں نے اُس میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا جبکہ عمران خان ڈیم فنڈ کے لیے رقوم جمع کرانے کی کئی بار خود اپیل کر چکے تھے۔

احمد ولید کے بقول بیرون ملک مقیم پاکستانی خود مشکل صورتِ حال سے گزر رہے ہیں۔ ہر کوئی گھروں میں محصور ہے۔ لہذٰا بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ایسی صورتِ حال میں رقوم نہیں بھیج سکتے۔

ماضی کی حکومتوں کی جانب سے عطیات جمع کرانے کی مثال دیتے ہوئے احمد ولید نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں 'قرض اُتارو ملک سنوارو' اسکیم شروع کی گئی۔ لیکن اُس کی شفافیت پر آج بھی سوالات اُٹھائے جاتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں 1997 میں بھی قرض اُتارو ملک سنوارو مہم کے لیے فنڈز جمع کیے گئے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں 1997 میں بھی قرض اُتارو ملک سنوارو مہم کے لیے فنڈز جمع کیے گئے۔

ماضی میں کب عطیات جمع کیے گئے؟

اس سے قبل 2018 میں بھی اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پانی کی کمی دُور کرنے کے لیے ڈیم تعمیر کرنے کے لیے عطیات جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

بعد میں وزیر اعظم عمران خان بھی اس مہم میں شامل ہو گئے۔ لہذٰا اسے وزیر اعظم، چیف جسٹس دیامیر بھاشا ڈیم فنڈ کا نام دیا گیا۔ اس حوالے سے لائیو ٹیلی تھون سمیت کئی تقریبات منعقد کی گئیں۔ اس فنڈ میں بھی 11 ارب سے زائد کی رقم جمع ہوئی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے اس فنڈ میں ایک ارب جمع کرائے تھے۔

اس سے قبل ملک میں آنے والے سیلاب اور زلزلوں کے دوران بھی حکومت کی جانب سے عطیات وصول کیے جاتے رہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف جب 1997 میں دوسری مرتبہ اقتدار میں آئے تو اُنہوں نے 'قرض اُتارو ملک سنوارو' کے نام سے مہم شروع کی۔ جس میں لوگوں نے دو ارب سے زائد کی رقوم جمع کرائیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رقوم مستحقین تک پہنچانا حکومت کا فرض ہے۔ لہذٰا ان رقوم کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنا کر نہ صرف عوام کی خدمت ہو سکتی ہے، بلکہ جن لوگوں نے عطیات دیے ہیں۔ اُن کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی۔

XS
SM
MD
LG