رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: 'لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا'


لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہجوم کی صورت میں ماسک پہننے کے باوجود خطرات ہیں۔

کرونا وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور دنیا کی بیشتر حکومتوں کے لئے یہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے کہ لاک ڈاؤن کے سبب گرتی ہوئی معیشتوں کو سنبھالیں اور معاشی سرگرمیاں شروع کریں یا کرونا وائرس کی دوسری لہر یا اس کے دوبارہ پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر لاک ڈاؤن جاری رکھیں۔

ادھر امریکی ریاست نیو یارک میں، جو امریکہ کے اندر کرونا وائرس کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گورنر اینڈریو کومو نے اعلان کیا ہے کہ نیویارک کے لوگ جلد ہی اپنی فارمیسی یا ادویات کے اسٹور میں کوویڈ 19 کی ٹیسٹنگ کرا سکیں گے۔ اور ریاست کی پانچ ہزار فارمیسیز کو اس کی اجازت ہو گی اور ہدف یہ ہے کہ روزانہ 40 ہزار افراد کے ٹیسٹ کئے جا سکیں گے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ نیو یارک شہر کے چار اسپتالوں میں ہیلتھ ورکرز کو، جو فرنٹ لائنز پر کام کرتے ہیں، وائرس سے بچاؤ کے لئے اینٹی باڈی ٹیسٹنگ دی جائے گی۔ جب کہ صحت کی عالمی تنظیم یا ڈبلیو ایچ او ہفتے کے روز خبردار کر چکی ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریض، جن کے جسمانی نظام میں یہاینٹی باڈیز موجود ہوں، وہ دوبارہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے سے محفوظ رہ سکیں گے۔

دوسری جانب بعض ممالک کرونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کے خطرے کے باوجود اپنی معیشتوں کو کھولنے کے اقدامات شروع کر رہے ہیں۔

ایران نے، جو مشرق وسطی میں اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ہفتے کے روز ماہ رمضان کے آغاز پر کرونا وائرس کے تازہ پھیلاؤ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

ایران کی متعدی امراض کی وزارت نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی اور وسطی صوبوں میں اس مرض کے تازہ پھیلاؤ کے شواہد ملے ہیں۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ ایران خود اپنے ہاں کاروباروں کو کھولنے کے کام کا آغاز کر رہا ہے۔

ادھر یہاں امریکہ میں بھی ریاست جارجیا اور اوکلاہاما میں معشیت کا پہیہ چلانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے، جنہوں نے ابتدا میں معیشت کو دوبارہ فعال کرنے کے اقدامات کی حمایت کی تھی، اب جارجیا کے معیشت دوبارہ کھولنے کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔

امریکی امور کے ایک تجزیہ کار مسعود ابدالی نے کہا ہے حقیقت یہ ہی ہے کہ یہ ایک بہت مشکل فیصلہ ہے کیونکہ ڈاکٹر فاؤچی کے بقول اگر اس وقت احتیاط سے کام نہیں لیا گیا تو کرونا کے خلاف جنگ میں جو کچھ اب تک حاصل کیا گیا ہے وہ سب ضائع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکہ میں اس سوال پر دو واضح موقف ہیں۔ ایک سائنسی اور طبی ماہرین کا موقف ہے جن کی اکثریت اس بات کی حامی ہے کہ جب تک اعداد و شمار یہ ثابت نہ کر دیں کہ اس مرض کو شکست دے دی گئی ہے، اس وقت تک لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا خطرہ مول نہ لیا جائے۔ دوسری جانب وہ سیاست دان اور سرکاری عمال پیں جن کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ معیشت کو غیر معینہ عرصے تک بند رکھنے کا متحمل نہیں ہوا جا سکتا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اس لحاظ سے دوسرے ملکوں سے مختلف ہے کہ یہاں اختیارات کی تقسیم واضح ہے اور ریاستوں یا شہروں کی سطح پر وہاں کے گورنر یا میئر یا دوسرے متعلقہ حکام فیصلے کرتے ہیں۔ اور ان میں وفاق کا زیادہ عمل دخل نہیں ہوتا۔

امریکی کانگریس کے بجٹ آفس کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کرونا کے سبب آنے والی معاشی سختی آئندہ سال تک جاری رہے گی۔ جب کہ اس وبا نے دنیا بھر کی معیشتوں کو شدت سے متاثر کیا ہے

اس غیر جماعتی ادارے کا کہنا ہے کہ ملک کا بجٹ خسارہ کوئی ایک کھرب سے بڑھ کر اس سال تین اعشاریہ سات کھرب تک پہنچ جائے گا۔ اور ملک میں بے روزگاری کی شرح جو فروری میں تین اعشاریہ پانچ فیصد تھی ستمبر میں کوئی 16 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

بجٹ آفس کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعد بے روزگاری کی شرح میں کمی ہو گی لیکن 2021 تک دو ہندسوں میں رہے گی۔

آنے والے دنوں میں کیا ہو گا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ دن سخت ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG