رسائی کے لنکس

قرنطینہ مرکز سے فرار، پکڑنے کی کوشش پر پولیس اہل کار زخمی


فائل فوٹو،

پنجاب کے ضلع لیہ میں تبلیغی جماعت کے مرکز میں قائم قرنطینہ مرکز سے فرار کی کوشش کرنے والے ایک شخص نے تیز دھار آلے سے حملہ کر کے ایک پولیس انسپکٹر کو زخمی کر دیا ہے۔

پولیس افسر کو علاج کے لیے مقامی اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے اور ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

لیہ کے ڈپٹی کمشنر اظفر ضیا کے مطابق لاک ڈاؤن سے پہلے اس علاقے میں موجود ملک کے مختلف حصوں سے قافلوں کی صورت میں آنے والے 210 سے زیادہ افراد کو تبلیغی جماعت کے مقامی مرکز کے اندر رہنے کی تلقین کی گئی تھی جسے قرنطینہ مرکز قرار دیا گیا ہے۔ اس میں تبلیغی جماعت کے ایک امیر شیخ خالد کی مشاورت شامل تھی۔

لیکن آج صبح خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عبدالرحمان نے قرنطینہ مرکز سے فرار ہونے کی کوشش کی اور جب اسے پولیس انسپکٹر اور تھانہ سٹہ لیہ کے ایس ایچ او اشرف نے روکنے کی کوشش کی تو اس نے تیز دھار آلے سے حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا جو اب اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ڈپٹی کمشنر اظفر ضیا کے مطابق،"تبلیغی مرکز میں قائم قرنطینہ مرکز میں مختلف شہروں سے آنے والے دو سو سے زیادہ افراد کو خود ساختہ تنہائی میں رکھنے کا فیصلہ خود تبلیغی جماعت کے مقامی امیر کی مشاورت اور ان کی سہولت کے لئے کہا گیا تھا۔"

لیکن عبدالرحمان نے تبلیغی مرکز کی قیادت کی بھی بات نہیں سنی اور گھر جانے کی کوشش کی۔ اظفر ضیا کے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس مرکز میں کم از کم سات افراد کی طبیعیت درست نہیں اور ان کے ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں، جن کی رپورٹ کا انتظار ہے، جو ایک دو دن میں متوقع ہے۔

ایس پی عاطف نذیر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ سمجھے کی کوشش کریں، پولیس لوگوں کو کرونا وائرس سے بچانے کی اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔

دوسری طرف تھانہ سٹی لیہ میں زخمی ایس ایچ او اشرف کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں ملزم عبدالرحمان کے خلاف باوردی پولیس اہل کار پر قاتلانہ حملہ کرنے٫ کار سرکار میں مداخلت اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کے الزامات کے تحت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324، 353 اور 186 کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 1997 کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم عبدالرحمان نے اس سے پہلے صبح کے وقت فرار ہونے کی کوشش کی تو تبلیغی جماعت کے مرکز کی انتظامیہ نے اسے روک لیا، لیکن چند گھنٹے کے بعد وہ پھر وہاں سے فرار ہو کر قریبی محلے میں ایک شخص کے گھر گھس گیا جس پر خواتین نے شور مچا دیا۔ جب ایس ایچ او نے قریب جا کر اسے قابو کرنے کی کوشش کی تو اس نے مبینہ طور پر یہ نعرہ لگایا کہ "میں کسی حکومت کو نہیں مانتا"، اور پھر تیز دھار آلہ سے ایس ایچ او انسکپڑ اشرف کو زخمی کر دیا۔ تاہم باقی پولیس اہل کاروں نے ملزم کو قابو کر لیا۔

بلوچستان اور سندھ میں کرونا وائرس کے ابتدائی کیسز سامنے آنے کے دنوں میں تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع رائے ونڈ لاہور میں تین دن جاری رہا تھا جس میں ملک بھر سے لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔ اجتماع کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی جماعت کے معمول کے مطابق، قافلوں کی تشکیل اور دیگر سرگرمیاں جاری رہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کے فیصلے کے بعد لیہ کی انتظامیہ نے ضلع میں موجود دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے ان قافلوں کے شرکا کو خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے اور اپنے ہی مرکز میں رہنے کی ہدایت کی تھی۔

پولیس انسپکٹر پر حملے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ملزم عبدالرحمان بھی ان 207 افراد میں سے ایک ہے جو 14 دنوں کے لئے اپنے ہی تبلیغی مرکز کی عمارت میں خود ساختہ تنہائی میں وقت گزار رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG