رسائی کے لنکس

logo-print

بینکاک سے آنے والے 170 پاکستانیوں کا کرونا ٹیسٹ منفی، گھروں کو روانہ


صحت کا قومی ادارہ جہاں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کے ٹیسٹ نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جن میں لوگوں کا کہنا ہے کہ اسپتال جانے کی صورت میں انہیں گھر پر عام نزلہ زکام کا علاج کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ جب کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے ٹیسٹ کے لیے آنے والے سیمپلز کے نتائج پر دن رات کام جاری ہے۔

اس صورت حال میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ تھائی لینڈ سے آنے والے 170 مسافروں کو 24 گھنٹوں میں ٹیسٹ کیا گیا اور تمام افراد کے نتائج منفی آنے کے بعد انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ بینکاک سے اسلام آباد پہنچنے والے 170 مسافروں کا کرونا ٹیسٹ نیگیٹیو آیا، جس کے بعد ان تمام کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ مسافر رات کی پرواز ٹی جی 349 سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ تمام مسافروں کے نمونے حاصل کر کے انہیں ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

یہ مسافر ہفتہ کے روز اسلام آباد اترے اور اتوار کے روز انہیں اپنی منزلوں کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ 24 گھنٹوں کے اندر ان مسافروں کے ٹیسٹ مکمل ہو جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے بتایا کہ یہ تمام ٹیسٹ این آئی ایچ میں کیے گئے اور 24 گھنٹوں کے اندر انہیں لیبارٹری کی جانب سے بتا دیا گیا کہ یہ تمام افراد کرونا سے محفوظ ہیں، جس کے بعد انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

کرونا ٹیسٹ میں کتنا وقت لگتا ہے؟

این آئی ایچ کے ڈاکٹر خرم گھمن نے بتایا کہ پاکستان کے پاس اس وقت تین مختلف اقسام کی ٹیسٹنگ کٹس موجود ہیں، جن میں 15 ,56 اور 92 سیمپلز کا ٹیسٹ بیک وقت کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت ملک بھر سے جو سیمپلز موصول ہو رہے ہیں، ان کے لیے این آئی ایچ کی طرف سے 48 گھنٹوں کا وقت دیا جاتا ہے۔ جس میں رزلٹ مہیا کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ایمرجینسی ہو اور ترجیحی بنیادوں پر درخواست کی جائے تو 24 گھنٹوں میں بھی رزلٹ دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے پروسیجر کے مطابق ایک کٹ میں موجود سیمپلزم کے رزلٹ آنے میں تقریباً 12 گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔ جب ایک سیمپل کو مختلف مراحل سے گزارنے کے بعد ٹیسٹ کٹ میں رکھا جاتا ہے، تو تقریباً 12 گھنٹوں میں اس کے نتائج سامنے آ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض کیسز میں ہمیں ہنگامی بنیادوں پر ٹیسٹ کرنے کا کہا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بعض کیسز کے رزلٹ جلدی فراہم کر دیے جاتے ہیں، لیکن اگر عام معمول کے مطابق ٹیسٹ کیے جائیں تو 48 گھنٹوں میں رزلٹ فراہم کر دیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG