رسائی کے لنکس

logo-print

پناہ گزین اور تارکینِ وطن بھی کرونا وائرس کی زد میں


فائل فوٹو

دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کو اب کرونا وائرس کی شکل میں ایک نئے بحران کا سامنا ہے اور دنیا کی توجہ بھی ان کی جانب نہیں ہے۔

’فرینڈز آف ہیومینیٹی‘ کے بانی احتشام ارشد نظامی کا کہنا ہے کہ ’’یہ بات باعث تشویش ہے کہ دنیا بھر میں جو لوگ کیمپوں میں پڑے پناہ گزینی کی زندگی گزار رہے ہیں، وہ ہائی رسک پر ہیں اور دنیا کی توجہ بھی ان کی جانب مرکوز نہیں ہے۔‘‘

دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو اب کرونا وائرس کی شکل میں ایک نئے بحران کا سامنا ہے۔ بڑی تعداد میں کیمپوں میں مقیم افراد ان حفاظتی اقدامات پر عمل نہیں کر سکتے جو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ناگزیر ہیں۔

بار بار ہاتھ دھونا، صفائی کا خیال کرنا اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا ان پر ہجوم کیمپوں میں ممکن ہی نہیں ہے۔ عام حالات میں بھی ان کے لئے بنیادی ضرورتوں اور سہولتوں کا فقدان ہے تو ان پر آشوب حالات میں ان کے لئے ایک محفوظ زندگی کی ضمانت کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟

ایسے ہی متعدد سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہم نے امریکہ میں قائم ایک فلاحی تنظیم ’فرینڈز فار ہیومینٹی‘ یا ’ایف او ایچ ‘سے رابطہ کیا جو بنگلہ دیش میں عشروں سے پناہ گزین اور اب وہاں پناہ لینے والے روہنگیا افراد کے لئے کام کرتی ہے۔

یہ تنظیم عام دنوں میں ان کیمپوں کے مکینوں کے لئے مفت تعلیم، صاف پانی کی فراہمی، بنیادی سہولتوں سے آراستہ بیت الخلا کی تعمیر، قدرتی آفات اور موسموں کی تبدیلی پر کپڑوں کی تقسیم جیسے کام کرتی ہے۔

یہاں امریکہ میں بھی ’فرینڈز آف ہیومینیٹی‘ مقامی سطح پر ضرورت مندوں کی مدد کرتی ہے۔ اس تنظیم کے کرتا دھرتا اور بانی احتشام ارشد نظامی ہیں جو تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ نظامی صاحب نے بنگلہ دیش کے کیمپوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ان میں دو مختلف طرح کی صورتحال ہے۔ ایک تو چاٹگام کے قریب کاکسس بازار کے علاقے میں قائم تین سے زائد بہت بڑے کیمپ ہیں جہاں میانمار سے آئے ہوئے روہنگیا پناہ گزیں ہیں جن کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی رہائش ایسی نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے ایک فٹ کا فاصلہ بھی رکھ سکیں۔ جہاں تک پانی کا تعلق ہےتو پینے ہی کے لئے یہ کافی نہیں ہوتا۔ با ر بار ہاتھ دھونےکا بندوبست تو دور کی بات ہے۔ اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کے پاس صابن ہو، کیونکہ ضروریات زندگی کے حصول کے لئے بھی وہ مقامی انتظامیہ اور فلاحی اداروں کے محتاج ہوتے ہیں۔

احتشام ارشد نظامی نے کہا کہ چار روز پہلے کی اطلاع کے مطابق ایک پناہ گزیں میں کرونا کی علامات پائی گئیں۔ لیکن، روہنگیا کیمپ کے اندر کی خبریں باہر نہیں آرہیں، کیونکہ انٹرنیٹ کی سہولت بھی بند ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’فرینڈز آف ہیومینیٹی‘ کے صدر احمد جانگڈا بنگلہ دیش میں اپنی حلیف این جی او یعنی غیر سرکاری تنظیم سے رابطے میں ہیں کہ ان پناہ گزینوں کی خصوصی طور پر مدد کس طرح کی جا سکے۔ ’ایف او ایچ‘ عام طور پر ان کے لئے گروسری اور کپڑوں کی امداد فراہم کرتی ہے۔

پھر بنگلہ دیش ہی کے مختلف کیمپوں میں 1971 سے لاکھوں افراد مقیم ہیں جنہیں بہاری کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ کیمپ سے باہر ریہڑی اور چھابڑی لگاتے ہیں یا پھر سائیکل رکشہ چلا کر گزر بسر کرتے ہیں۔

ان کے کیمپوں کی حالت اور بھی زیادہ خراب ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت انہیں پناہ گزیں نہیں مانا جاتا۔ اس لئے وہ بین الاقوامی امداد سے بھی محروم رہتے ہیں۔ یہ افراد سات یا آٹھ فٹ کی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور ان کے بیت الخلا بھی اجتماعی استعمال میں ہوتے ہیں۔ صفائی ستھرائی نظر نہیں آتی۔ بنگلہ دیش میں جاری ایک حکم نامے کے تحت گھر سے باہر جانے والوں کے لئے ماسک کا استعمال لازمی ہے لیکن یہ سہولت انہیں میسر نہیں ہے۔

احتشام نظامی کے مطابق، کرونا وبا سے بچنے کے لئے ’ایف او ایچ‘ نے ہنگامی بنیادوں پر کیمپوں میں جگہ جگہ پانی کی ٹینکیاں نلکوں کے ساتھ لگوا دی ہیں۔ صابن کا بندوبست کیا ہے، تاکہ ہاتھ دھونے کی سہولت ہو۔ بڑی تعداد میں ماسک تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ زکواة کی مد میں موصول ہونے والے عطیات میں سے ان کو راشن فراہم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں رجسٹرڈ غیر سرکاری تنظیم ’ہیومینیٹی ان ڈسٹریس‘ یا ’ایچ آئی ڈی‘ وہاں ’ایف او ایچ‘ کی مدد سے سر گرم ہے۔

احتشام نطامی نے مزید بتایا کہ ’ایف ایچ او‘ کے بنگلہ دیش کے لئے کنٹری ڈائریکٹر سید جلال الدین احمد اور ’ایچ آئی ڈی‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ھارون الرشید کی قیادت میں دونوں تنظیموں کے کارکن دن رات مصروف عمل ہیں اور یہاں امریکہ سے ’ایف او ایچ‘ کے صدر احمد جانگڈا نگرانی کر رہے ہیں۔

آخر میں امریکہ میں اپنی تنطیم کی فلاحی سرگرمیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے احتشام نظامی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے ’ایف او ایچ‘ نے ایک معروف سرکاری ادارے ’شکاگو فوڈ ڈیپازٹری‘ کو کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مدد کے لئے چیک کے ذریعے رقم فراہم کی اور اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔

اس سلسلے میں ’ایف او ایچ‘ نے عطیات جمع کرنے کی مہم کا بھی آغاز کیا ہے۔ یہ عطیات آن لائن بھی دیے جا سکتے ہیں۔ آن لائن کے لئے ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ایف او ایچ ڈاٹ کام پر مدد کی جا سکتی ہے۔

احتشام ارشد نظامی نے بتایا کہ ان کی یہ تنظیم امریکی حکومت کے شعبہ آئی آر ایس سے تسلیم شدہ ادارہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG