رسائی کے لنکس

logo-print

لاکھوں پناہ گزینوں کی نئی لہر کا رخ یورپ کی جانب


بہت سے پناہ گزین چھوٹی کشتیوں میں سمندر کا پر خطر سفر کرنے کے بعد یورپ پہنچتے ہیں۔ جن میں سے کئی ایک ڈوب کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

شمال مشرقی شام میں لڑائی میں شدت آنے سے تین ماہ میں دس لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ 9 سالہ خانہ جنگی کا بدترین انسانی بحران بن سکتا ہے۔ علاقے میں ترک فوج کی مداخلت پر صدر بشار الاسد کے اتحادی روس نے ترکی کو دھمکی دی ہے کہ شام کی حدود میں ترک طیارے آئے تو واپسی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ترکی نے شامی پناہ گزینوں کا نیا ریلہ آنے کے بعد کہا ہے کہ وہ مہاجرین کو یورپ جانے سے مزید نہیں روک سکتا۔

شام کے شمال مشرقی علاقے ادلب میں سرکاری فوج اور باغیوں کی تازہ جھڑپوں نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا ہے جو جان بچانے کے لیے ترکی کا رخ کر رہے ہیں۔ صدر بشارالاسد کی فوج کو روس کا تعاون حاصل ہے جب کہ باغی گروہوں کو ترک افواج سے مدد ملتی رہی ہے۔

حال ہی میں شام کی سرحد میں گھسنے پر روسی فضائیہ کے حملے میں 33 ترک فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ جواب میں ترکی نے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا اور دو شامی لڑاکا طیارے مار گرائے۔ اس کارروائی کے بعد شام نے ادلب کی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور روس نے ترکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے طیارے آئے تو ان کی واپسی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

ترک صدر رجب طیب اردوان جمعرات کو ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں ان کی صدر پوتن کے ساتھ ملاقات طے ہے۔

ترکی کو ایک اور پریشانی پناہ گزینوں کے نئے ریلے کی صورت میں لاحق ہوئی ہے۔ پہلے ہی 37 لاکھ شامی اس کی سرزمین پر پناہ گزیں ہیں جب کہ خدشہ ہے کہ مزید 10 لاکھ سرحد کے اس طرف آ رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ اس سمجھوتے کو برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت وہ رقم کے بدلے مہاجرین کو اپنی سرحد سے آگے نہیں جانے دے رہا تھا۔

اس وقت بھی کم از کم دس ہزار مہاجرین ترکی اور یونان کی سرحد پر جمع ہیں اور صورت حال قابو سے باہر ہونے پر دونوں جانب سے ان پر آنسوگیس کے گولے پھینکے گئے ہیں۔ یونان نے الزام لگایا ہے کہ ترکی مہاجرین کو اس کی سرحد پار کرنے کی ترغیب دے رہا ہے اور اس کے سرحدی محافظین آہنی باڑ کاٹنے کے لیے کٹر بانٹ رہے ہیں۔ یونانی حکومت نے ایک ماہ پہلے پناہ کے طلب گاروں کی درخواستیں وصول کرنا بند کر دی تھیں۔

یورپی یونین کے چیف ایگزیکٹو ارسلا وون ڈیر لئین اور جرمن چانسلر اینگلا مرکل دونوں نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کو یورپ آنے سے نہ روکنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ لئین کل منگل کو یونانی وزیراعظم کے ساتھ ترکی کی سرحد کا دورہ بھی کریں گے تاکہ صورت حال کا مشاہدہ کرسکیں۔

ہزاروں پناہ گزیں سمندر کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ پیر کو یونانی جزیرے لیسبوس کے قریب ایک کشتی ڈوب جانے سے ایک شامی بچہ ہلاک ہو گیا لیکن درجنوں دوسرے افراد کو بچا لیا گیا۔ یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں میں شامیوں کے علاوہ عرب اور افغان پناہ گزیں بھی شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG