رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

04:07 30.4.2020

لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کا امریکی خواب خطرے میں

کرونا وائرس سے ہزاروں امریکی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ وبا لاکھوں تارکین وطن کا امریکی خواب بھی قتل کرنے کے درپے ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد بیروزگار ہوئے ہیں۔ ان میں لاکھوں تارکین وطن بھی شامل ہیں جو ورک ویزے پر امریکہ آئے۔ ان کے قیام کی شرط ان کی ملازمت تھی۔

مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی سارہ پئیرس کہتی ہیں کہ ایچ ون بی ویزا کے تحت آپ اسی آجر کے لیے کام کر سکتے ہیں، جس کے لیے آپ کو ویزا ملا ہے۔ آپ اتنے ہی گھنٹے کام کرسکتے ہیں، جتنے کا وعدہ کیا ہے۔ اور اسی مقام پر کام کرسکتے ہیں، جس کا ذکر ہوا ہے۔ ان میں تبدیلیوں کے لیے نئی درخواست دائر کرنا پڑتی ہے جو موجودہ حالات میں مشکل کام ہے۔

اگر کوئی شخص ملازمت کھو بیٹھے تو اس کے پاس نئی ملازمت حاصل کرکے درخواست دائر کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت ہوتا ہے۔ یہ معمول کے دنوں میں بھی آسان کام نہیں ہوتا۔ موجودہ بحران میں کون نئی ملازمت کی امید کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیے

04:05 30.4.2020

بھارت چین سے اینٹی باڈیز ٹبسٹ کٹس برآمد نہیں کرے گا

بھارت کی سرکاری میڈیکل ریسرچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ بھارت چین سے منگائی گئی کٹس کو واپس کر دے گا، کیوں کہ ان کی کارکردگی غیر معیاری ہے۔ ایجنسی نے ملک کے تمام میڈیکل مراکز کو ان کے استعمال سے روک دیا ہے۔

ان کٹس سے اینٹی بادیز کا فوری ٹسٹ کیا جاتا ہے اور آدھے گھنٹے کے اندر اس کا نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ بھارت نے خود بھی پانچ لاکھ ایسی کٹس تیار کر لی ہیں۔ یہ ٹسٹ ایسے مریضوں کا لیا جاتا ہے جو کرونا وائرس کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی اینٹی باڈیز سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مریض کا جسم مرض کے خلاف کتنی قوت مدافعت رکھتا ہے۔

چین سے برآمد کی جانے والی کٹس کے بارے میں طبی مراکز نے شکایت کی ہے کہ ان کے نتائج یکساں نہیں نکلے۔

نئی دہلی میں چینی سفارت خانے کی ترجمان ژی رونگ نے کہا کہ چند افراد کا یہ اعتراض انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور ناجائز ہے۔ بقول ان کے، ''انہوں نے پہلے سے طئے شدہ منصوبے کے تحت ایسا کیا''۔

چین کا کہنا ہے کہ اس کی کٹس طبی معیار کو پورا کرتی ہیں اور بھارت کے اندر ان کی سٹوریج اور ترسیل میں ضروری احتیاط برتی جانی تھی۔ اور اگر ان ضابطوں پر عمل نہ کیا جائے اور بے احتیاطی برتی جائے تو اس ٹسٹ کے نتائج میں فرق آسکتا ہے۔

04:01 30.4.2020

حیات بعد از کرونا

علامہ اقبال نے کہا تھا ’آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہی۔ محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی'۔

آج اگر واقعی دنیا پر نگاہ ڈالی جائے تو بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لب سچ پر کھلنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ لیکن دنیا بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ شہر ہوں یا ان کی تفریح گاہیں۔ ہوٹل ہوں یا ریستوراں۔ پارک ہوں یا ساحل، جہاں کبھی رونقیں ہوتی تھیں قہقہے گونجتے تھے، بچوں کی چہچہاہٹیں کانوں میں رس گھولتی تھیں اب وہاں ویرانیوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

پہلے لوگ جب ملتے تھے تو تپاک سے ملتے تھے۔ لیکن اب اگر سر راہ ملاقات بھی ہو جائے اور غلطی سے قربت ہو نے لگے تو ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں، گلے ملنا تو کجا ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے۔

ڈاکٹر بشیر بدر نے تو شاید ایک مخصوص شہر کے لئے کہا ہو گا کہ:

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو

لیکن آج تو شہر شہر، قریہ قریہ، یہ ہی صورتِ حال ہے۔ نہ کوئی ہاتھ ملاتا ہے۔ نہ گلے ملتا ہے۔ بلکہ دوسرے کو دیکھ کر دور بھاگتا ہے۔

مزید پڑھیے

03:58 30.4.2020

کیا امریکہ میں معاشی سرگرمی جلد بحال ہوسکے گی؟

کرونا وائرس کا آسیب جب کہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے، مختلف ریاستوں کے گورنر وائرس کی تباہ کاریوں اور اس کے اقتصادی اثرات کے درمیان ایک لکیر کھیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے بندش کی وجہ سے جس طرح معیشت برباد ہوئی ہے اور بیروزگاری میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے، اس کے پیش نظر بعض امریکی ریاستوں میں اب کاروبار پر بندش کو آہستہ آہستہ نرم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ گرچہ اس بارے میں تشویش اپنی جگہ موجود ہے کہ وائرس کے کیسز میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار برائن پیڈن نے اپنی رپورٹ میں یاد دلایا ہے کہ امریکہ میں پچپن ہزار سے زیادہ لوگ اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں اور تقریباً دس لاکھ کو یہ انفکیشن لگ چکا ہے۔ اس کے اقتصادی اثرات کے نتیجے میں دو کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ امریکی اب تک روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG