جنوبی کوریا میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، معمولات زندگی کی جلد بحالی کی اُمید
کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل جنوبی کوریا میں جمعرات کو کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ جس کے بعد حکام معمولات زندگی کی جلد بحالی کی اُمید کر رہے ہیں۔
جنوبی کوریا میں فروری کے وسط میں کرونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ جس کے بعد جنوبی کوریا خطے میں چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا تھا۔
جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے ملک میں کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونے پر کہا کہ یہ عوام کے عزم کا عکاس ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا نے بڑے پیمانے پر شہریوں کی ٹیسٹنگ کی۔ اس کے علاوہ سماجی پابندیوں پر بھی سختی سے عمل کیا گیا۔
- By شمیم شاہد
خیبر پختونخوا میں خصوصی آرڈیننس: خاندان کا سربراہ زیرِ کفالت افراد میں وبائی مرض کی اطلاع دے گا
خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت خاندان کے سربراہ کو پابند کیا جائے گا کہ زیر کفالت افراد میں کسی کو بھی اگر وبائی مرض لاحق ہوا تو وہ انتظامیہ کو آگاہ کرنے کا پابند ہو گا۔
خیبر پختونخوا کی کابینہ کا اجلاس وزیرِ اعلیٰ محمُود خان کی زیرِ صدارت میں جمعرات کو ہوا۔ اجلاس میں حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں لاک ڈاؤن میں میں بعض اداروں کی تعطیل میں 15 مئی تک توسیع کی گئی جب کہ کابینہ نے کرونا ریلیف آرڈیننس کی بھی منظوری دی۔
اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے کہا کہ کابینہ نے آرڈیننس کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے خاندان کے سربراہان کو زیر کفالت افراد کے متاثر ہونے کی صورت میں اطلاع دینے کا پابند کیا جائے گا جب کہ آرڈیننس کی خلاف ورزی پر سزائیں اور جرمانے بھی تجویز کیے گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں صوبے کے مختلف علاقوں میں مویشی منڈیاں کھولنے پر اتفاق ہوا۔ اجلاس میں دودھ کی دکانیں 4 بجے کے بعد بھی کھلی رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس تاحکم ثانی بندرہیں گے۔ تمام سیاحتی مقامات تاحکم ثانی بند رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کرونا سے ہلاک ہونے والے فرنٹ لائن ورکرز یعنی طبی عملے وغیرہ کے لیے 70لاکھ روپے کے پیکج کی بھی منظوری دی۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ چھ ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے تعلیمی ادارے فیسوں میں 20 فی صد رعایت دیں گے جبکہ چھ ہزار سے کم فیس وصول کرنے والے 10 فی صد رعایت دیں گے۔
اجلاس میں طے پایا کہ مالک کرایہ دار کو کرائے کی عدم ادائیگی کی صورت میں تین ماہ تک کے لیے بے دخل نہیں کر سکے گا۔
- By علی فرقان
پاکستان کی جی ڈی پی سات دہائیوں کے بعد منفی 1.6 رہنے کا اندیشہ
پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) سات دہائیوں کے بعد رواں مالی سال منفی 1.6 رہنے کا خدشہ ہے۔ جس کا سبب کرونا وائرس کے باعث پڑنے والے منفی اثرات ہیں۔
معیشت میں گراوٹ کا یہ اندازہ وزارت خزانہ کی جانب سے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 52-1951 میں تاریخ کی کم ترین سطح منفی 1.8 فی صد رہی تھی۔
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی ترقی و دیگر مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ کرونا وائرس کے سبب معیشت پر منفی اثرات کی بدترین صورت جاری رہنے پر پاکستان کی شرح نمو یعنی جی ڈی پی منفی 1.57 رہنے کا خدشہ ہے۔
- By محمد ثاقب
سندھ میں وبا سے ایک ہی روز میں 12 اموات
صوبہ سندھ میں کرونا سے ایک ہی روز میں 12 اموات ہوئی ہیں جو وبا کے آغاز اب تک ایک روز میں ہونے والی سب سے زیاد اموات ہیں۔ دوسی جانب کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 6ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے۔
ترجمان وزیر اعلیٰ ہاوس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز صوبے میں کرونا کے 358 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 53 بتائی جاتی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایک ہی روز میں 358 نئے کیسز سامنے آنا پریشان کن بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرونا کے 24 گھنٹوں میں مزید 2578 ٹیسٹ کیے گئے ۔ اب تک صوبے میں 54377 ٹیسٹ ہو چکے ہیں جب کہ مریضوں کی کُل تعداد 6053 ہوگئی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مُراد علی شاہ نے کہا کہ اب تک 1222 مریض صحت یاب ہوئے جو کُل تعداد کا 20.2 فی صد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کرونا کے باعث 12 نئی اموات کے ساتھ اموات کی تعداد 112 ہو گئی ہے۔
ان کے بقول سندھ میں کرونا وائرس کے 4721 مریض زیر علاج ہیں۔ جن میں 3473 مریض گھروں میں قرنطینہ میں ہیں جب کہ 741 مریض قرنطینہ مراکز اور 505 اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 30 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جب کہ 17 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔
خیال رہے کہ صوبے میں کرونا کے باعث انتقال کرنے والوں میں 73 فی صد مرد جب کہ 27 فی صد خواتین بتائی جاتی ہیں۔