وبا کے پیش نظر امریکہ سے تعزیرات میں نرمی برتنے کا مطالبہ
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس جانب توجہ دلا رہی ہیں کہ کرونا وائرس نے مختلف ملکوں کے خلاف عائد امریکی تعزیرات کی تکالیف کو اور بڑھا دیا ہے۔
نہ صرف انسانی حقوق کی تنظیمیں بلکہ امدادی ادارے اور سابق سفارتکاروں نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران، وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے ملکوں کے خلاف تعزیرات میں نرمی کرے، تاکہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران طبی اور غذائی امداد کی آسانی سے رسائی ممکن ہوسکے۔
مشرق وسطٰی میں ایران کے اندر کرونا وائرس کے انفیکشن کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اور شائد اسی کے پیش نظر بعض ایسی تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کو نرم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جن سے اہم ادویات اور طبی سامان کی درآمد میں ایران کو رکاوٹوں کا سامنا درپیش ہے۔
وائس آف امریکہ کےنامہ نگار برائن پیڈن نے اپنی رپورٹ میں وینزویلا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے تعزیرات سے پہلے ہی خوراک اور دواوں کی قلت کا سامنا تھا. لیکن کرونا کی عالمگیر وبا نے صورتحال کو اور بھی خراب کردیا ہے جس کی ایک وجہ تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوہٹ ہے۔ وینیزویلا کی معیشت کا زیادہ تر دار و مدار تیل کی آمدنی پر ہے۔
جہاں تک شمالی کوریا کا تعلق ہے اس کے خلاف تعزیرات کی حمایت کرنے والوں کی دلیل ہے کہ کرونا وائرس کے بعد دی جانے والی امداد سے اسے اور دوسری آمرانہ حکومتوں کو ہتھیاروں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لئے زیادہ وسائل کے استعمال کا موقع ہاتھ لگ جائے گا۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی نامی تنظیم کے رچرڈ گولڈبرگ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر موجودہ بحران کے دوران امریکی تعزیرات کی وجہ سے ان ملکوں کے طرز عمل میں تبدلی آجائے اور وہ اپنے پیسوں کا استعمال اپنے عوام پر کریں تو درحقیقت یہ امریکہ کے لئے سود مند ہوگا۔
کیا کیلیفورنیا میں لاک ڈاؤن ختم ہو رہا ہے؟
امریکہ میں کئی ریاستوں میں کاروبار گذشتہ ہفتے سے ہی کھلنا شروع ہو گئے تھے اور جن ریاستوں کے گورنر اس بارے میں کوئی اعلان نہیں کر رہے تھے وہاں لوگوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ ان میں کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم بھی شامل تھے۔ ان پر بعض کاؤنٹیز کی طرف سے بہت دباؤ تھا کہ وہ ریاست میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کریں۔
کیلیفورنیا کی اورنج کاؤنٹی نے تو اپنے طور پر ساحلی تفریح گاہ کھول بھی دی مگر گورنر نے وہاں سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل نہ کرنے پر اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے بیچ کو دوبارہ بند کر دیا۔
اس پر احتجاج کرتے ہوئے کاؤنٹی کے لوگوں نے گورنر کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔
ڈاکٹر آصف محمود ریاست کے ہیلتھ بورڈ کے رکن ہیں انہوں نے اس بارے میں وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیلیفورنیا میں سیاسی طور پر بہت تقسیم پائی جاتی ہے اس لئے جذبات میں شدت بھی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ آخری حکم گورنر کا ہی ہوتا ہے اور وہ جب چاہے ریاست کو بند کر سکتا ہے۔
کرونا وائرس کی رپورٹ سے وائٹ ہاؤس کا اظہار لاتعلقی
امریکی حکومت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جون تک کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔
وائٹ ہاوس کے ترجمان جڈ ڈئیر نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ وائٹ ہاوس کی دستاویز نہیں ہے اور نہ ہی اس رپورٹ کو وائٹ ہاوس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس کے سامنے پیش کیا گیا۔
بقول ترجمان، اس میں جو ڈیٹا دیا گیا ہے وہ نہ تو ٹاسک فورس کے کسی ماڈل سے مطابقت رکھتا ہے، نہ ہی ٹاسک فورس نے اس کا تجزیہ کیا ہے۔
اس معاملے پر، وائٹ ہاوس کے ترجمان نے پیر کے روز متعدی بیماریوں کے انسداد اور کنٹرول کے سرکاری ادارے، سی ڈی سی سے بات کی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی تھی کہ اس ماہ کے آخر تک کرونا کے نئے متاثرین کی تعداد تقرباً دو لاکھ روزانہ ہوگی جو کہ اس وقت پچیس ہزار ہے۔ یہ معلومات حکومت کے ایک ماڈل اور فیڈرل ایمرجینسی مینیجمنٹ ایجنسی کے چارٹ کو ملا کر حاصل کی گئی ہے، جسے پیر کے روز اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے شایع کیا تھا۔
اسپینش فلو اور کرونا وائرس: ایک صدی میں کیا بدلا، کیا نہیں بدلا؟
سائنس کے شعبے میں ایک صدی کی غیر معمولی ترقی کے باوجود 2020 میں بہت کچھ ویسا ہے، جیسا 1918 میں تھا۔
اسپینش فلو اور کووڈ 19 کے درمیانی عرصے میں دنیا کو وائرسوں کے بارے میں علم ہوا، کئی بیماریوں کا علاج دریافت ہوا، موثر ویکسینیں بنائی گئیں۔ معلومات کی تیز ترین ترسیل ممکن ہوئی اور صحت عامہ کے شاندار نظام قائم کے گئے۔
اس کے باوجود انسان وہیں کھڑا ہے۔ منہ پر ماسک لگائے۔ اور متعدی مرض کی روک تھام سے پہلے لاکھوں کو مرتا دیکھتے ہوئے۔
1918 کی طرح عوام اپنے رہنماؤں کے کھوکھلے وعدے سن رہے ہیں جبکہ اسپتال اور مردہ خانے بھرتے جا رہے ہیں اور بینک اکاؤنٹس خالی ہو رہے ہیں۔ قرنطینہ کا قدیم زمانہ واپس آگیا ہے اور اس کے ساتھ عطائیوں کے مشورے بھی۔