وائٹ ہاؤس کے عملے کو ماسک پہننے کی ہدایت
امریکی صدر کے عملے کے بیشتر ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے بیرونی احاطے میں ماسک پہنیں یا اپنے منہ کو ڈھانپ کر رکھیں تاکہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
یہ ہدایات وائٹ ہاؤس کے عملے کے 2 ارکان کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد جاری کی گئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے جن دو اہل کاروں کے ٹیسٹ مثبت آئے، ان میں نائب صدر مائیک پینس کی پریس سیکریٹری بھی شامل تھیں۔
لیکن امریکی صدر کے معاونین کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق دفاتر میں نہیں ہو گا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماسک یا کسی اور شے سے چہرے کو نہیں ڈھانپں گے۔ صدر ٹرمپ کئی بار نیوز بریفنگ میں بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ماسک نہیں پہنیں گے۔
مائیک پینس پیر کو وائٹ ہاؤس کے احاطے میں دکھائی دیے لیکن انھوں نے بھی ماسک نہیں پہنا ہوا تھا۔ یہ بات واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ کے عملے کے افراد اوول ہاؤس میں ماسک پہنیں گے یا نہیں۔
کرونا وائرس: یوم علی پر جلوس برآمد نہیں ہوگا
اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی شیعہ رہنماؤں کے درمیان طے پایا ہے کہ 21 رمضان کو یوم علی کے سلسلے میں نکلنے والے جلوس برآمد نہیں ہوں گے، جب کہ مجالس عزا بھی ایس او پی کے تحت تراویح کی طرز پر فاصلہ کے ساتھ منعقد کرنے کی اجازت ہو گی۔
اس بات کا اعلان ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی شیعہ رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے، جس میں طے پایا کہ رواں سال یوم علی پر کوئی بھی جلوس نہیں نکالا جائے گا۔ کسی بھی جگہ پر کوئی بڑا اجتماع بھی نہیں ہو گا۔ صرف چند محدود مقامات پر مجالس منعقد کرنے کی اجازت ہو گی لیکن وہاں پر بھی تمام ایس او پیز پر عمل کیا جائے گا۔
مجالس میں شریک ہونے والے تمام افراد کے لیے ماسک پہننا ضروری ہو گا اور مجالس کی جگہ کو پہلے اور بعد میں ڈی انفکیٹ کیا جائے گا۔
کرونا وائرس: امریکی معیشت کب تک تباہ حال رہے گی؟
کرونا وائرس کی پراسرار وبا جب کہ بہت بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع اور معیشت کی بربادی کا بدستور سبب بن رہی ہے، امریکہ میں ماہرین اس بات پر بحث و تمحیص کر رہے ہیں کہ امریکہ کی معیشت آخر کب تک تباہ حالی کا شکار رہے گی؟ اہم سوال یہ ہے کہ کیا معیشت فوری طور پر بحالی کی طرف آ جائے گی یا یہ عمل بتدریج ہی ممکن ہو سکے گا۔
اسی دوران محکمہ محنت کے اعداد و شمار سے متعلق امریکی بیورو کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 14 اعشاریہ 7 فیصد ہو گئی ہے جو 1948 کے بعد سے امریکہ میں بیروزگاری کی سب سے بلند ترین سطح ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ جب کہ اپریل میں بیروزگاری کی شرح خراب تھی، مئی کے مہینے میں بھی کوئی بہتر توقعات نہیں ہیں۔ دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کے ماہرین پرامید ہیں کہ معیشت تیزی کے ساتھ بحالی کی جانب آ جائے گی۔ تاہم دوسروں کو اتنی زیادہ خوش امیدی نہیں ہے۔
وائس آف امریکہ کی ایلیزہ بیتھ لی نے اپنی رپورٹ میں وہائٹ ہاؤس میں قومی اقتصادی کونسل کے ڈائریکٹر لیری کوبلو کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیروزگاری کی تباہ کن صورت حال کے باوجود انھیں امید کی کرن نظرآ تی ہے، اس لئے کہ، بقول ان کے، بہت سے بیروزگار لوگ وہ ہیں جنھیں محض عارضی طور پر ان کے گھروں کو بھیج دیا گیا ہے، تاہم انھیں اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ صورت حال مستقبل قریب میں بہتر ہونے نہیں جا رہی۔
وبا سے اموات میں کمی، 11 مقامات پر وائرس کا خاتمہ
کرونا وائرس سے اموات میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے جب کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ 11 ملکوں اور خود مختار خطوں میں کرونا وائرس کے تمام کیسز نمٹ گئے ہیں، یعنی یا تو مریض صحت یاب ہو گئے ہیں یا ان کا انتقال ہو گیا ہے اور کوئی نیا کیس موجود نہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق پیر کو دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 42 لاکھ اور اموات کی تعداد 2 لاکھ 86 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔
24 گھنٹوں کے دوران فرانس میں 263، برطانیہ میں 210، اٹلی میں 179، اسپین میں 123، کینیڈا میں 122 اور میکسیکو میں 112 مریض چل بسے۔ روس، برازیل، بھارت، ترکی اور بیلجیم میں 50 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔